فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 221 of 611

فقہ المسیح — Page 221

فقه المسيح 221 زكوة روزے، حج اور زکوۃ کی تاکید فرمایا: زكوة اپنے روزوں کو خدا کے لئے صدق کے ساتھ پورے کرو۔ہر ایک جو ز کوۃ کے لائق ہے وہ زکوۃ دے اور جس پر حج فرض ہو چکا ہے اور کوئی مانع نہیں وہ حج کرے۔“ زکوۃ کا نام رکھنے کی وجہ فرمایا: کشتی نوح۔روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 15) زکوۃ کا نام اسی لئے زکوۃ ہے کہ انسان اس کی بجا آوری سے یعنی اپنے مال کو جو اس کو بہت پیارا ہے لِلہ دینے سے بخل کی پلیدی سے پاک ہو جاتا ہے اور جب بخل کی پلیدی جس سے انسان طبعاً بہت تعلق رکھتا ہے انسان کے اندر سے نکل جاتی ہے تو وہ کسی حد تک پاک بن کر خدا سے جو اپنی ذات میں پاک ہے ایک مناسبت پیدا کر لیتا ہے۔زیور پر زکوة ( براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 204،203) ایک شخص نے عرض کیا کہ زیور پر زکوۃ ہے یا نہیں؟ فرمایا: ” جو زیور استعمال میں آتا ہے اور مثلاً کوئی بیاہ شادی پر مانگ کر لے جاتا ہے تو دے دیا جاوے۔وہ زکوۃ سے مستنی ہے۔“ الحکم 30 اپریل 1902 ، صفحہ 7) جوز یور پہنا جائے اور کبھی کبھی غریب عورتوں کو استعمال کے لئے دیا جائے بعض کا اس کی نسبت یہ فتویٰ ہے کہ اس کی کچھ زکوۃ نہیں اور جو زیور پہنا جائے اور دوسروں کو استعمال