فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 223 of 611

فقہ المسیح — Page 223

فقه المسيح 223 زكوة جائز ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے إِلَّا مَا اضْطُرِ رُ تُم إِلَيْهِ حدیث سے فتویٰ تو یہ ہے کہ نہ دینی چاہئے۔اگر سید کو اور قسم کا رزق آتا ہو تو اسے زکوۃ لینے کی ضرورت ہی کیا ہے۔ہاں اگر اضطراری حالت ہو تو اور بات ہے۔(الحکم 24 راگست 1907 ، صفحہ 5) حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ اگر چہ صدقہ اور زکوۃ سادات کے لئے منع ہے۔مگر اس زمانہ میں جب ان کے گزارہ کا کوئی انتظام نہیں ہے۔تو اس حالت میں اگر کوئی سید بھوکا مرتا ہو اور کوئی اور صورت انتظام کی نہ ہو تو بے شک اُسے زکوۃ یا صدقہ میں سے دے دیا جائے۔ایسے حالات میں ہرج نہیں ہے۔) سیرت المہدی جلد 1 صفحہ 718) زکوۃ کے روپے سے حضرت مسیح موعود کی کتب خرید کر تقسیم کرنا فرمایا: اگر میری جماعت میں ایسے احباب ہوں جوان پر بوجه املاک و اموال و زیورات وغیرہ کے زکوۃ فرض ہو تو ان کو سمجھنا چاہئے کہ اس وقت دین اسلام جیسا غریب اور یتیم اور بے کس کوئی بھی نہیں اور زکوۃ نہ دینے میں جس قدر تہدید شرع وارد ہے وہ بھی ظاہر ہے اور عنقریب ہے جو منکر زکوۃ کافر ہو جائے پس فرض عین ہے جو اسی راہ میں اعانت اسلام میں زکوۃ دی جاوے۔زکوۃ میں کتابیں خریدی جائیں اور مفت تقسیم نشان آسمانی۔روحانی خزائن جلد 4 صفحہ 409) کی جائیں۔صاحب توفیق کے لئے زکوۃ جائز نہیں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت صاحب فرماتے تھے کہ جیسے زکوۃ یا صدقہ سادات کے لئے