فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxvii of 611

فقہ المسیح — Page xxvii

حرف آغاز حکم عدل کا فقہی اسلوب مقدس سرزمین کی عزت کی خاطر حرم میں شکار منع ہے اسی طرح متفرق آراء کی پیروی۔۔۔اس حکم کی موجودگی کی وجہ سے حرام ہے۔وہ حکم جو معصوم ہے اور خدائے عزوجل کی طرف سے حرم کی جگہ پر ہے۔اب ادب کا تقاضا ہے کہ ہر بات اس کے سامنے پیش کی جائے اور اُسی کے ہاتھوں سے ہی اب ہر چیز وصول کی جائے۔) (الهدى والتبصرةُ لِمَن يَرى - روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 339،338۔عربی سے ترجمہ ) سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے امت مسلمہ کی ہر پہلو سے رہنمائی فرمائی اور جن عقائد اور اعمال میں بگاڑ پیدا ہو چکا تھا ان کی اصلاح فرمائی۔آپ کی بعثت کے وقت امت مسلمہ مختلف فرقوں اور جماعتوں میں بٹی ہوئی تھی اور فقہی اختلافات کے لحاظ سے بھی بہت شدت آچکی تھی اور برصغیر پاک و ہند میں حنفی اور غیر حنفی کی تقسیم واضح صورت اختیار کر چکی تھی۔حنفی اپنے حنفی ہونے پر فخر کرتے تھے اور دین میں اجتہاد کے راستے کو از خود بند کر چکے تھے اور اپنے ائمہ کی فخریہ تقلید کرتے تھے۔جبکہ دوسری طرف اہلحدیث فرقہ ،حنفیوں کی سخت مخالفت کرتا تھا اور فروعی مسائل میں باہمی مباحثے ہوتے تھے۔اہلحدیث موحد کہلاتے تھے اور حدیث کی اہمیت اور درجے کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے تھے اور بخاری اور مسلم کو عملاً قرآن کے برابر قرار دیتے تھے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہر دوگروہوں کی اصلاح فرمائی اور انہیں صحیح راستہ دکھایا۔فرمایا ” جب ہم اس امر میں غور کریں کہ کیوں ان کتابوں ( بخاری ومسلم۔ناقل ) کو واجب العمل خیال کیا جاتا ہے تو ہمیں یہ وجوب ایسا ہی معلوم ہوتا ہے جیسے حنفیوں کے نزدیک اس بات کا وجوب ہے کہ امام اعظم صاحب کے یعنی حنفی مذہب کے تمام مجتہدات واجب العمل ہیں! لیکن ایک دانا سوچ سکتا ہے کہ یہ وجوب شرعی نہیں بلکہ کچھ زمانہ سے ایسے خیالات کے اثر سے اپنی طرف سے یہ وجوب گھڑا گیا ہے جس حالت میں حنفی مذہب پر آپ لوگ یہی اعتراض کرتے ہیں کہ وہ نصوص ہینہ شرعیہ کو چھوڑ 5