فقہ المسیح — Page xxvi
حرف آغاز حكم عدل کا فقہی اسلوب ہم بطور حکم کے آئے ہیں کیا حکم کو یہ لازم ہے کہ کسی خاص فرقہ کا مرید بن جاوے۔بہتر فرقوں میں سے کس کی حدیثوں کو مانے۔حگم تو بعض احادیث 66 کومردود اور متروک قرار دے گا اور بعض کو صحیح۔“ ایک اور جگہ فرمایا (الحکم 10 فروری 1905 صفحه ۴ ) آنے والے مسیح کا نام حکم رکھا گیا ہے۔یہ نام خود اشارہ کرتا ہے کہ اس وقت غلطیاں ہوں گی اور مختلف الرائے۔۔۔۔لوگ موجود ہوں گے۔پھر اُسی کا فیصلہ ناطق ہوگا۔اگر اسے ہر قسم کی باتیں مان لینی تھیں تو اس کا نام حگم ہی کیوں رکھا گیا ؟ الحکم 17 نومبر 1902 ، صفحہ 2) آپ نے بتایا کہ حکم در اصل حرم کے مشابہہ ہے جس کا کام لوگوں کو اختلافات سے بچا کر امن دینا ہے۔فرمایا اللہ نے اپنے ایک بندے کو بھیجا ہے تا کہ وہ ان کے درمیان حکم بن کر فیصلہ کر دے جن باتوں میں وہ اختلاف کرتے تھے اور تا کہ وہ اسے فاتح قرار دیں اور وہ اس کی ہر بات اچھی طرح تسلیم کر لیں اور اس کے فیصلوں پر اپنے دلوں میں کوئی تنگی محسوس نہ کریں اور یہ وہی حکم ہے جو ( خدا کی طرف سے ) آیا ہے۔۔۔۔۔اے لوگو! تم مسیح کا انتظار کرتے تھے اور اللہ نے جس طرح چاہا اُسے ظاہر کر دیا۔پس اپنے چہروں کو اپنے رب کی طرف پھیر لو اور اپنی خواہشات کی پیروی نہ کرو۔تم احرام کی حالت میں شکار نہیں کرتے تو اب تم اپنی متفرق آراء کی پیروی کس طرح کر سکتے ہو جبکہ تمہارے پاس حکم موجود ہے۔☆ حاشیہ متفرق آراء پرندوں کے مشابہہ ہیں جو ہوا میں ہوتے ہیں اور حگم اس امن والے حرم کے مشابہہ ہے جو غلطیوں سے امن دیتا ہے جس طرح اللہ کی 4