فقہ المسیح — Page xxviii
حرف آغاز حکم عدل کا فقہی اسلوب کر بے اصل اجتہادات کو محکم پکڑتے اور ناحق تقلید شخصی کی راہ اختیار کرتے ہیں تو کیا یہی اعتراض آپ پر نہیں ہو سکتا کہ آپ بھی کیوں بے وجہ تقلید پر زور مار رہے ہیں؟ حقیقی بصیرت اور معرفت کے کیوں طالب نہیں ہوتے ؟ ہمیشہ آپ لوگ بیان کرتے تھے کہ جو حدیث صحیح ثابت ہے اس پر عمل کرنا چاہئے اور جو غیر صحیح ہو اس کو چھوڑ دینا چاہئے۔اب کیوں آپ مقلدین کے رنگ پر تمام احادیث کو بلا شرط صحیح خیال کر بیٹھے ہیں؟ اس پر آپ کے پاس شرعی ثبوت کیا ہے؟“ الحق مباحثہ لدھیانہ۔روحانی خزائن جلد 4 صفحہ 21،20) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مامور زمانہ کی حیثیت سے ایک نیا فقہی اسلوب دیا جو فقہ احمدیہ کی بنیاد بنا۔آپ کے فقہی اسلوب کے بنیادی خد وخال ، آپ کی تحریرات اور ملفوظات میں ہمیں ملتے ہیں۔آپ نے اصول اور مسائل فقہ میں ہر پہلو سے ہماری رہنمائی فرمائی اور میزان اور اعتدال کا راستہ دکھایا اور صراط مستقیم پر ہمیں قائم فرمایا۔آپ کے فقہی اسلوب کے اہم نکات مندرجہ ذیل ہیں۔1- قرآن کریم هی اصل ميزان معیار اورمحک هے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہمیں شریعت کی اصل بنیاد پر نئے سرے سے قائم فرمایا اور خدا کی اس رسی کو مضبوطی سے پکڑنے کی ہدایت کی جسے لوگ چھوڑ چکے تھے۔چنانچہ آپ نے باہمی اختلافات کو دور کرنے کے لئے یہ رہنمائی فرمائی کہ قرآن کریم ہی میزان ، معیار اور محك ہے۔فرمایا: کتاب وسنت کے حجج شرعیہ ہونے میں میرا یہ مذہب ہے کہ کتاب اللہ مقدم اور امام ہے۔جس امر میں احادیث نبویہ کے معانی جو کئے جاتے ہیں کتاب اللہ کے مخالف واقع نہ ہوں تو وہ معانی بطور حجت شرعیہ کے قبول کئے جائیں گے لیکن جو معانی 6