فقہ المسیح — Page 194
فقه المسيح 194 روزہ اور رمضان فرمایا: روزہ اور رمضان اپنے روزوں کو خدا کے لئے صدق کے ساتھ پورے کرو، اور ہر ایک جو زکوۃ کے لائق ہے وہ زکوۃ دے اور جس پر حج فرض ہو چکا ہے اور کوئی مانع نہیں وہ حج کرے۔“ کشتی نوح، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 15) رؤیت ہلال خدائے تعالیٰ نے احکام دین سہل و آسان کرنے کی غرض سے عوام الناس کو صاف اور سیدھا راہ بتلایا ہے اور ناحق کی دقتوں اور پیچیدہ باتوں میں نہیں ڈالا مثلاً روزہ رکھنے کیلئے یہ حکم نہیں دیا کہ تم جب تک قواعد ظنیہ نجوم کے رو سے یہ معلوم نہ کرو کہ چاند انتیس کا ہوگا یا تمہیں کا۔تب تک رویت کا ہرگز اعتبار نہ کرو اور آنکھیں بند رکھو کیونکہ ظاہر ہے کہ خواہ نخواہ اعمال دقیقہ نجوم کو عوام الناس کے گلے کا ہار بنانا یہ ناحق کا حرج اور تکلیف مالا يطاق ہے اور یہ بھی ظاہر ہے کہ ایسے حسابوں کے لگانے میں بہت سی غلطیاں واقع ہوتی رہتی ہیں سو یہ بڑی سیدھی بات اور عوام کے مناسب حال ہے کہ وہ لوگ محتاج منجم و ہیئت دان نہ رہیں اور چاند کے معلوم کرنے میں کہ کس تاریخ نکلتا ہے اپنی رویت پر مدار رکھیں صرف علمی طور پر اتنا سمجھ رکھیں کہ تمہیں کے عدد سے تجاوز نہ کریں اور یہ بھی یادرکھنا چاہئے کہ حقیقت میں عند العقل رویت کو قیاسات ریاضیہ پر فوقیت ہے۔آخر حکمائے یورپ نے بھی جب رویت کو زیادہ تر معتبر سمجھا تو اس نیک خیال کی وجہ سے بتائید قوت باصرہ طرح طرح کے آلات دور بینی و خورد بینی ایجاد کئے اور بذریعہ رویت تھوڑے ہی دنوں میں اجرام علوی وسفلی کے متعلق وہ صداقتیں معلوم کر لیں کہ جو ہندوؤں بیچاروں کو اپنی قیاسی اٹکلوں سے ہزاروں برسوں میں بھی معلوم