فقہ المسیح — Page 189
فقه المسيح 189 نماز جنازہ اور تدفین ہوا کہ وہ غیر احمدی تھی۔وہ لڑکا مجھ سے اپنی والدہ کے لئے دعا بھی کراتا رہا کہ وہ احمدی ہو جائے لیکن اس وقت مجھے یاد نہ رہا۔اسی طرح اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کسی کا جنازہ پڑھ دیا تو وہ ہمارے لئے حجت نہیں ہے۔ہاں اگر چند معتبر آدمی حلفیہ بیان کریں کہ ہم نے حضرت مسیح موعود کو کہا تھا کہ فلاں غیر احمدی فوت ہو گیا ہے۔آپ اس کا جنازہ پڑھ دیں اور پھر آپ نے پڑھ دیا تو ہم مان لیں گے۔کیا کوئی ایسے شاہد ہیں؟ پس جب تک کوئی اس طرح نہ کرے یہ بات ثابت نہیں ہوسکتی کہ آپ نے کسی غیر احمدی کا جنازہ پڑھنا جائز قرار دیا ہے اور ہمارے پاس غیر احمدی کا جنازہ نہ پڑھنے کے متعلق ایک بہت بڑا ثبوت ہے اور وہ یہ کہ یہاں حضرت مسیح موعود کے اپنے بیٹے کی لاش لائی گئی اور آپ کو جنازہ پڑھنے کے لئے کہا گیا تو آپ نے انکار کر دیا۔پھر سرسید کے جنازہ پڑھنے کے متعلق مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم کا خط موجود ہے کہ آپ نے اس کا جنازہ نہیں پڑھا۔کیا وہ آپ کو کافر کہتے تھے ہر گز نہیں۔ان کا تو مذہب ہی یہ تھا کہ کوئی کا فرنہیں ہے۔جب ان کے جنازہ کے متعلق خط لکھا گیا تو جیسا کہ مولوی عبد الکریم صاحب مندرجہ ذیل خط میں ایک دوست کو تحریر فرماتے ہیں آپ نے اس پر خفگی کا اظہار فرمایا:۔متوفی کی خبر وفات سن کر خاموش رہے۔ہماری لا ہور جماعت نے متفــاز ورشور سے عرضداشت بھیجی کہ وہاں جنازہ پڑھا جائے اور پھر نوٹس دیا جائے کہ سب لوگ جماعت کے ہر شہر میں اسی تقلید پر جنازہ پڑھا جائے اور اس سے نوجوانوں کو یقین ہوگا کہ ہمارا فرقہ صلح گل فرقہ ہے۔اس پر حضرت صاحب کا چہرہ سرخ ہو گیا۔فرمایا اور لوگ نفاق سے کوئی کارروائی کریں تو بچ بھی جائیں مگر ہم پر تو ضرور غضب الہی نازل ہو۔اور فرمایا ہم تو ایک محرک کے تحت میں ہیں۔بغیر اس کی تحریک کے کچھ نہیں کر سکتے نہ ہم کوئی کلمہ بد اس کے حق میں کہتے ہیں اور نہ کچھ اور کرتے ہیں۔تفویض الی اللہ کرتے ہیں۔فرمایا جس تبدیلی کے ہم منتظر بیٹھے ہیں۔اگر ساری دنیا