فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 190 of 611

فقہ المسیح — Page 190

فقه المسيح 190 خوش ہو جائے اور ایک خدا خوش نہ ہو تو کبھی ہم مقصود حاصل نہیں کر سکتے۔“ پس ہم کس طرح کسی غیر احمدی کا جنازہ پڑھنا جائز سمجھ سکتے ہیں۔نماز جنازہ اور تدفین الفضل 28 / مارچ 1915 ، صفحہ 8 تقریر جلسہ سالانہ 27 دسمبر 1916 ء۔انوار العلوم جلد 3 صفحہ 422-423) مشتبہ الحال شخص کا جنازہ سوال ہوا کہ جو آدمی اس سلسلہ میں داخل نہیں اس کا جنازہ جائز ہے یا نہیں؟ حضرت مسیح موعود نے فرمایا: اگر اس سلسلہ کا مخالف تھا اور ہمیں بُرا کہتا اور سمجھتا تھا تو اس کا جنازہ نہ پڑھو، اور اگر خاموش تھا اور درمیانی حالت میں تھا تو اس کا جنازہ پڑھ لینا جائز ہے۔بشرطیکہ نماز جنازہ کا امام تم میں سے کوئی ہو ورنہ کوئی ضرورت نہیں۔“ سوال ہوا کہ اگر کسی جگہ نماز کا امام حضور کے حالات سے واقف نہیں تو اس کے پیچھے نماز پڑھیں یا نہ پڑھیں۔فرمایا: پہلے تمہارا فرض ہے کہ اُسے واقف کرو۔پھر اگر تصدیق کرے تو بہتر ورنہ اُس کے پیچھے اپنی نماز ضائع نہ کرو۔اور اگر کوئی خاموش رہے ، نہ تصدیق کرے نہ تکذیب کرے تو وہ بھی منافق ہے اس کے پیچھے نماز نہ پڑھو۔اگر کوئی ایسا آدمی مر جائے جو تم میں سے نہیں اور اس کا جنازہ پڑھنے اور پڑھانے والے غیر لوگ موجود ہوں اور وہ پسند نہ کرتے ہوں کہ تم میں سے کوئی جنازہ کا پیش امام بنے اور جھگڑے کا خطرہ ہو تو ایسے مقام کو ترک کرو۔اور اپنے کسی نیک کام میں مصروف ہو جاؤ۔(الحکم 30 اپریل 1902 صفحہ 7) حضرت علیدہ اسبیع الثانی رضی اللہ عنہ کے عہد مبارک میں مجلس افتاء نے حضرت مسیح موعود