فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 188 of 611

فقہ المسیح — Page 188

فقه المسيح 188 نماز جنازہ اور تدفین ہے۔اس میں شک نہیں کہ بعض حوالے ایسے ہیں جن سے یہ بات معلوم ہوتی ہے اور ایک خط بھی ملا ہے جس پر غور کیا جائے گا لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا عمل اس کے برخلاف ہے۔چنانچہ آپ کا ایک بیٹا فوت ہو گیا جو آپ کی زبانی طور پر تصدیق بھی کرتا تھا جب وہ مرا تو مجھے یاد ہے آپ ٹہلتے جاتے اور فرماتے کہ اس نے کبھی شرارت نہ کی تھی بلکہ میرا فرمانبردار ہی رہا ہے۔ایک دفعہ میں سخت بیمار ہوا اور شدت مرض میں مجھے غش آ گیا۔جب مجھے ہوش آیا تو میں نے دیکھا کہ وہ میرے پاس کھڑا نہایت درد سے رورہا تھا۔آپ یہ بھی فرماتے ہیں کہ یہ میری بڑی عزت کیا کرتا تھا لیکن آپ نے اس کا جنازہ نہ پڑھا حالانکہ وہ اتنا فرمانبردار تھا کہ بعض احمدی بھی اتنے نہ ہوں گے۔۔۔۔۔۔قرآن شریف سے تو معلوم ہوتا ہے کہ ایسا شخص جو بظاہر اسلام لے آیا ہے لیکن یقینی طور پر اس کے دل کا کفر معلوم ہو گیا ہے تو اس کا جنازہ بھی جائز نہیں۔پھر غیر احمدی کا جنازہ پڑھنا کس طرح جائز ہوسکتا ہے۔انوار خلافت۔انوار العلوم جلد 3 صفحہ 148-149 ) ایک اور موقع پر حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں: کہا جاتا ہے کہ فلاں غیر احمدی کا جنازہ حضرت مسیح موعود نے پڑھایا تھا۔ممکن ہے آپ نے کسی کی درخواست پر پڑھایا ہولیکن کوئی خدا کی قسم کھا کر کہہ دے کہ میں نے حضرت مسیح موعود کو کہا تھا کہ فلاں غیر احمدی فوت ہو گیا ہے۔آپ اس کا جنازہ پڑھ دیں۔اصل بات یہ ہے کہ آپ کو کہا گیا کہ فلاں کا جنازہ پڑھ دیں اور آپ نے یہ سمجھ کر کہ وہ احمدی ہوگا پڑھ دیا۔اس طرح ہوا ہوگا۔میرے متعلق تو سب جانتے ہیں کہ میں کسی غیر احمدی کا جنازہ پڑھنا جائز نہیں سمجھتا۔لیکن مجھے بھی اس طرح کی ایک بات پیش آئی تھی اور وہ یہ کہ یہاں ایک طالب علم ہے۔اس نے مجھے کہا کہ میری والدہ فوت ہو گئی ہے اس کا جنازہ پڑھ دیں۔میں نے پڑھ دیا بعد میں معلوم