فقہ المسیح — Page 149
فقه المسيح 149 حضرت مسیح موعود کا طریق نماز کے وقت پہلی صف میں دوسرے مقتدیوں کے ساتھ مل کر کھڑے ہوا کرتے تھے۔لیکن پھر بعض باتیں ایسی ہوئیں کہ آپ نے اندر حجرہ میں امام کے ساتھ کھڑا ہونا شروع کر دیا اور جب حجرہ گرا کر تمام مسجد ایک کی گئی تو پھر بھی آپ بدستور امام کے ساتھ ہی کھڑے ہوتے رہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ اوائل میں مسجد مبارک بہت چھوٹی ہوتی تھی اور لمبی قلمدان کی صورت میں تھی جس کے غربی حصہ میں ایک چھوٹا حجرہ تھا۔جو مسجد کا حصہ ہی تھا لیکن درمیانی دیوار کی وجہ سے علیحدہ صورت میں تھا۔امام اس حجرہ کے اندر کھڑا ہوتا تھا اور مقتدی پیچھے بڑے حصہ میں ہوتے تھے۔بعد میں جب مسجد کی توسیع کی گئی تو اس غربی حجرہ کی دیوارا ڑ ا کر اسے مسجد کے ساتھ ایک کر دیا گیا۔(سیرت المہدی جلد 1 صفحہ 271،270) حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں پانچ وقت کی نماز اور جمعہ کی نما ز تو مولوی عبدالکریم صاحب پڑھاتے تھے۔مگر عیدین کی نماز ہمیشہ حضرت مولوی نورالدین صاحب پڑھایا کرتے تھے۔الا ماشاء اللہ اور جنازوں کی نماز عموما حضرت مسیح موعود علیہ السلام خود پڑھاتے تھے۔(سیرت المہدی جلد 1 صفحہ 440) حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فریضہ نماز کی ابتدائی سنتیں گھر میں ادا کرتے تھے اور بعد کی سنتیں بھی عموماً گھر میں اور کبھی کبھی مسجد میں پڑھتے تھے۔خاکسار نے دریافت کیا کہ حضرت صاحب نماز کو لمبا کرتے تھے یا خفیف؟ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ عموما خفیف پڑھتے تھے۔(سیرت المہدی جلد 1 صفحہ 5،4)