فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 148 of 611

فقہ المسیح — Page 148

فقه المسيح 148 حضرت مسیح موعود کا طریق نماز حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا طریق نماز حضرت مفتی محمد صادق صاحب تحریر کرتے ہیں : شروع میں جب قادیان میں نماز کے وقت تین چار آدمی سے زیادہ نہ ہوا کرتے تھے۔مسجد مبارک میں حافظ معین الدین صاحب مرحوم اور مسجد اقصیٰ میں میاں جان محمد صاحب کشمیری نماز کے پیش امام ہوا کرتے تھے۔سنا گیا ہے کہ کبھی کبھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام خود بھی نماز میں پیش امام ہوتے تھے مگر یہ میرے یہاں آجانے سے قبل ہوا۔زندگی کے آخری سالوں میں جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام عموما با ہر تشریف نہ لا سکتے تھے۔اس وقت اندر عورتوں میں نماز مغرب اور عشاء جمع کر کے پڑھایا کرتے تھے۔حضور امامت کے وقت بسم اللہ بالجبر نہ پڑھا کرتے تھے اور رفع یدین بھی نہ کرتے تھے۔مگر ہاتھ سینہ پر باندھتے تھے۔اور تشہد میں سبابہ کی انگلی اٹھاتے تھے۔باقی نماز ظاہری طریق میں حنفیوں کے طرز پر ہوتی تھی۔حضرت مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم ہمیشہ نماز میں بسم اللہ بالجبر پڑھتے تھے اور آخری رکعت میں بعد رکوع کھڑے ہوکر بآواز بلند دعائیں (قنوت) کرتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور دیگر بزرگانِ دین نے سالہا سال حضرت مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم کی اقتداء میں نمازیں پڑھیں اور یہی وجہ ہے کہ اس وقت کے بعض اصحاب جیسا کہ صوفی غلام محمد صاحب واعظ ماریشس ابتک یہی رویہ رکھتے ہیں۔“ ذکر حبیب از حضرت مفتی محمد صادق صاحب صفحہ 24 ) حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ مجھ سے مولوی شیر علی صاحب نے بیان کیا کہ جب میں شروع شروع میں قادیان آیا تھا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نماز