فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 150 of 611

فقہ المسیح — Page 150

فقه المسيح 150 حضرت مسیح موعود کا طریق نماز حضرت منشی برکت علی صاحب شملوی روایت کرتے ہیں ایک دفعہ مجھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ مسجد اقصی میں نماز جعہ ادا کرنے کا موقعہ ملا۔جمعہ کی نماز غالبا حضرت مولوی نورالدین صاحب خلیفتہ اسیح اول نے پڑھائی تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام قبر کے قریب بیٹھ گئے۔میں بھی موقعہ غنیمت سمجھتے ہوئے آپ کے پاس بیٹھ گیا اور دیکھتا رہا کہ حضور کس طرح نماز ادا فرماتے ہیں۔میں نے دیکھا کہ آپ نے اس طرح سینہ پر ہاتھ باندھے کہ انگلیاں کہنی تک نہیں پہنچتی تھیں۔آپ کی گردن ذرا دائیں طرف جھکی رہتی تھی۔جب آپ قعدے میں ہوتے تو دائیں ہاتھ کی انگلیاں بند رکھتے اور جب کلمہ شہادت پڑھتے تو شہادت کی انگلی کھڑی کرتے۔جہاں تک مجھے یاد ہے۔آپ آمین بالجبر کرتے تھے۔اسی دن دوسری بات یہ پیش آئی کہ جب نماز جمعہ پڑھ چکے غالبا موسم اچھا نہیں تھا۔یا اور کوئی بات تھی۔تو یہ سوال پیدا ہوا کہ آیا عصر کی نماز جمعہ کے ساتھ جمع ہوسکتی ہے یا نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت مولوی نورالدین صاحب سے دریافت فرمایا۔آپ نے کیا جواب دیا۔وہ مجھے یاد نہیں رہا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ عصر کی نماز جمع کر کے پڑھ لو۔چنانچہ وہ دونوں نمازیں جمع کر کے ادا کی گئیں۔روایت حضرت منشی برکت علی صاحب شملوی اصحاب احمد جلد 3 صفحہ 192، 193) حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی روایت کرتے ہیں سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نماز با جماعت کے علاوہ سنن ونوافل اندرون خانہ ادا کرتے تھے۔پہلی سنتیں عموما گھر سے پڑھ کر تشریف لاتے اور پچھلی سنتیں گھر میں تشریف لے جا کر ادا فرماتے تھے۔البتہ ابتدائی زمانہ میں جبکہ حضور شام کی نماز کے بعد عشاء کی نماز تک مسجد ہی میں تشریف فرمایا کرتے تھے۔حضور شام کی نماز کی سنتیں مسجد ہی میں ادا