فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 147 of 611

فقہ المسیح — Page 147

فقه المسيح 147 قصر نماز قصر نماز کا تعلق صرف خوف کے ساتھ نہیں بلکہ ہر سفر کے ساتھ ہے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ بیان کیا ہم سے قاضی امیرحسین صاحب نے کہ میں اوائل میں اس بات کا قائل تھا کہ سفر میں قصر نما ز عام حالات میں جائز نہیں بلکہ صرف جنگ کی حالت میں فتنہ کے خوف کے وقت جائز ہے اور اس معاملہ میں مولوی صاحب (حضرت خلیفہ اوّل) کے ساتھ بہت بحث کیا کرتا تھا۔قاضی صاحب نے بیان کیا کہ جن دنوں میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا گورداسپور میں مقدمہ تھا ایک دفعہ میں بھی وہاں گیا۔حضرت صاحب کے ساتھ وہاں مولوی صاحب (حضرت خلیفہ اوّل) اور مولوی عبدالکریم صاحب بھی تھے۔مگر ظہر کی نماز کا وقت آیا تو آپ نے مجھے فرمایا کہ قاضی صاحب آپ نماز پڑھائیں۔میں نے دل میں پختہ ارادہ کیا کہ آج مجھے موقعہ ملا ہے میں قصر نہیں کروں گا۔بلکہ پوری پڑھوں گا تا اس مسئلہ کا کچھ فیصلہ ہو۔قاضی صاحب بیان کرتے ہیں کہ میں نے یہ ارادہ کر کے ہاتھ اُٹھائے کہ قصر نہیں کروں گا۔حضرت صاحب میرے پیچھے دائیں طرف کھڑے تھے۔آپ نے فورا قدم آگے بڑھا کر میرے کان کے پاس منہ کر کے فرمایا قاضی صاحب دو ہی پڑھیں گے نا ؟ میں نے عرض کیا حضور دو ہی پڑھوں گا۔بس اس وقت سے ہمارا مسئلہ حل ہو گیا اور میں نے اپنا خیال ترک کر دیا۔سیرت المہدی جلد 1 صفحہ 24 ،25)