فقہ المسیح — Page 138
فقه المسيح 138 نماز استسقاء نماز استسقاء سخت گرمی پڑنے اور برسات کے نہ ہونے کا ذکر تھا۔اس پر آپ نے فرمایا: ایسے موقع پر نماز استسقاء کا پڑھنا سنت ہے۔میں جماعت کے ساتھ بھی سنت ادا کروں گا مگر میرا ارادہ ہے کہ باہر جا کر علیحدگی میں نماز پڑھوں اور دعا کروں۔خلوت میں اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزی کرنے اور دعامانگنے کا جولطف ہے وہ لوگوں میں بیٹھ کر نہیں ہے۔( بدر 10 اگست 1905 ء صفحہ 2) حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ مکرمی مفتی محمد صادق صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں ایک دفعہ نماز استسقاء ہوئی تھی جس میں حضرت صاحب بھی شامل ہوئے تھے اور شاید مولوی محمد احسن صاحب مرحوم امام ہوئے تھے۔لوگ اس نماز میں بہت روئے تھے مگر حضرت صاحب میں چونکہ ضبط کمال کا تھا اس لئے آپ کو میں نے روتے نہیں دیکھا اور مجھے یاد ہے کہ اس کے بعد بہت جلد بادل آکر بارش ہو گئی تھی بلکہ شاید اسی دن بارش ہو گئی تھی۔(سیرت المہدی جلد 1 صفحہ 393) حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب اس موقع کے بارہ میں ایک روایت تحریر کرتے ہیں کہ ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں ایک مرتبہ نماز استسقاء ہوئی تھی۔یہ نماز اس بڑ کے درخت کے نیچے ہوئی تھی جہاں گزشتہ سالوں میں جلسہ گاہ مستورات تھا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس بڑ کے نیچے اور اس کے ساتھ والے میدان میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں کئی دفعہ عید بھی ہوئی تھی اور جنازے بھی اکثر یہیں ہوا کرتے تھے۔(سیرت المہدی جلد 1 صفحہ 623،622)