فقہ المسیح — Page 114
فقه المسيح 114 متفرق مسائل نماز نماز میں اپنی زبان میں دعا کرنا جائز ہے فرمایا : یہ ضروری بات نہیں ہے کہ دعا ئیں عربی زبان میں کی جاویں، چونکہ اصل غرض نماز کی تضرع اور ابتہال ہے، اس لئے چاہیے کہ اپنی مادری زبان میں ہی کرے۔انسان کو اپنی مادری زبان سے ایک خاص اُنس ہوتا ہے اور پھر وہ اس پر قادر ہوتا ہے۔دوسری زبان سے خواہ اس میں کس قدر بھی دخل ہو اور مہارت کا مل ہو، ایک قسم کی اجنبیت باقی رہتی ہے۔اس لئے چاہیے کہ اپنی مادری زبان ہی میں دعائیں مانگے۔ایک اور موقعہ پر حضرت اقدس نے فرمایا: الحکم 24 دسمبر 1900 ءصفحہ 2) سب زبانیں خدا نے بنائی ہیں۔چاہیے کہ اپنی زبان میں جس کو اچھی طرح سمجھ سکتا ہے۔نماز کے اندر دعائیں مانگے ، کیونکہ اُس کا اثر دل پر پڑتا ہے تا کہ عاجزی اور خشوع پیدا ہو۔کلامِ الہی کو ضرور عربی میں پڑھو اور اس کے معنی یا د رکھو اور دُعا بے شک اپنی زبان میں مانگو۔جو لوگ نماز کو جلدی جلدی پڑھتے ہیں اور پیچھے لمبی دُعائیں کرتے ہیں وہ حقیقت سے نا آشنا ہیں۔دعا کا وقت نماز ہے۔نماز میں بہت دعائیں مانگو۔(الحکم 24 مئی 1901 صفحہ 9) نماز میں مسنون دعاؤں کے علاوہ اپنی زبان میں بھی دعا کرو فرمایا: نماز کے اندرا اپنی زبان میں دعا مانگنی چاہیے کیونکہ اپنی زبان میں دعا مانگنے سے پورا جوش پیدا ہوتا ہے۔سورۃ فاتحہ خدا تعالیٰ کا کلام ہے۔وہ اسی طرح عربی زبان میں پڑھنا۔