فقہ المسیح — Page 115
فقه المسيح 115 متفرق مسائل نماز چاہئے اور قرآن شریف کا حصہ جو اس کے بعد پڑھا جاتا ہے وہ بھی عربی زبان میں ہی پڑھنا چاہئے۔اور اس کے بعد مقررہ دعائیں اور تسبیح بھی اسی طرح عربی زبان میں پڑھنی چاہئیں۔لیکن ان سب کا ترجمہ سیکھ لینا چاہئے اور ان کے علاوہ پھر اپنی زبان میں دعائیں مانگنی چاہئیں تا کہ حضور دل پیدا ہو جائے کیونکہ جس نماز میں حضور دل نہیں وہ نماز نہیں۔آج کل لوگوں کی عادت ہے کہ نماز تو ٹھونگید ار پڑھ لیتے ہیں جلدی جلدی نماز کو ادا کر لیتے ہیں جیسا کہ کوئی بیگار ہوتی ہے، پھر پیچھے سے لمبی لمبی دعائیں مانگنا شروع کرتے ہیں۔یہ بدعت ہے۔حدیث شریف میں کسی جگہ اس کا ذکر نہیں آیا کہ نماز سے سلام پھیرنے کے بعد پھر دُعا کی جائے۔نادان لوگ نماز کو تو ٹیکس جانتے ہیں اور دُعا کو اس سے علیحدہ کرتے ہیں۔نماز خود دُعا ہے۔دین و دنیا کی تمام مشکلات کے واسطے اور ہر ایک مصیبت کے وقت انسان کو نماز کے اندر دعائیں مانگنی چاہئیں۔نماز کے اندر ہر موقع پر دُعا کی جاسکتی ہے۔رکوع میں بعد تسبیح۔سجدہ میں بعد تسبیح۔التحیات کے بعد کھڑے ہوکر۔رکوع کے بعد بہت دعائیں کرو تا کہ مالا مال ہو جاؤ۔چاہیے کہ دعا کے وقت آستانہ الوہیت پر روح پانی کی طرح بہہ جائے۔ایسی دُعا دل کو پاک وصاف کر دیتی ہے۔یہ دُعا میسر آوے، تو پھر خواہ انسان چار پہر دعا میں کھڑا ر ہے گناہوں کی گرفتاری سے بچنے کے واسطے اللہ تعالیٰ کے حضور میں دُعائیں مانگنی چاہئیں۔دعا ایک علاج ہے جس سے گناہ کی زہر دور ہو جاتی ہے۔بعض نادان لوگ خیال کرتے ہیں کہ اپنی زبان میں دعا مانگنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے۔یہ غلط خیال ہے۔ایسے لوگوں کی نما ز تو خود ہی ٹوٹی ہوئی ہے۔ذکر حبیب از حضرت مفتی محمد صادق صاحب صفحہ 202 203)