فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 113 of 611

فقہ المسیح — Page 113

فقه المسيح 113 متفرق مسائل نماز اپنی زبان اُردو یا فارسی یا انگریزی وغیرہ میں کرنا جائز نہیں ہے اور عموما لوگوں کی عادت ہے کہ سلام پھیرنے کے بعد پھر ہاتھ اُٹھا کر اپنی زبان میں دُعائیں کرتے ہیں اور اپنے دلی جذبات اور خواہشات کا اظہار کرتے ہیں مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بارہا فرمایا: ”نماز کے اندر سجدہ یا رکوع کے بعد کھڑے ہوکر یا کسی دوسرے موقعہ پر مسنون دعا کہنے کے بعد اپنی زبان میں دعا مانگنا جائز ہے کیونکہ اپنی زبان میں ہی انسان اچھی طرح اپنے جذبات اور دلی جوش کا اظہار کر سکتا ہے۔کسی نے عرض کی کہ مولوی لوگ تو کہتے ہیں کہ نماز کے اندر اپنی زبان میں دعا کرنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے۔فرمایا ” اُن کی نماز تو پہلے ہی ٹوٹی ہوئی ہے کیونکہ وہ سمجھتے نہیں کہ کیا کہہ رہے ہیں۔دعا خواہ کسی زبان میں کی جائے۔اس سے نماز نہیں ٹوٹتی۔فرمایا: جو لوگ نماز عربی میں جلدی جلدی پڑھ لیتے ہیں۔اس کے مطلب کو نہیں سمجھتے اور نہ انہیں کچھ ذوق اور شوق پیدا ہوتا ہے اور سلام پھیرنے کے بعد لمبی دعائیں کرتے ہیں۔اُن کی مثال اُس شخص کی ہے جو بادشاہ کے دربار میں حاضر ہوا۔اور تخت کے سامنے کھڑے ہو کر اپنی عرضی پیش کی جو کسی سے لکھوالی تھی اور بغیر سمجھنے کے طوطے کی طرح اُسے پڑھ کر سلام کر کے چلا آیا اور دربار سے باہر آ کر شاہی محل کے باہر کھڑے ہو کر پھر کہنے لگا کہ میری یہ عرض بھی ہے اور وہ عرض بھی ہے۔اُسے چاہیے تھا کہ عین حضوری کے وقت اپنی تمام عرضیں پیش کرتا۔فرمایا: ”ایسے لوگوں کی مثال جو نماز میں دعا نہیں کرتے اور نماز کے خاتمہ کے بعد لمبی دعائیں کرتے ہیں۔اُس شخص کی طرح ہے جس نے اتنے کی چوٹی کو الٹا کر 66 زمین پر رکھا اور پیتے اوپر کی طرف ہو گئے اور پھر گھوڑے کو چلایا کہ اُس اگے کو کھینچے۔( ذکرِ حبیب از حضرت مفتی محمد صادق صاحب صفحہ 197 ،198 )