فقہ المسیح — Page 106
فقه المسيح 106 متفرق مسائل نماز جب میرے پاس سے گذرنے لگے اور مجھے سنتیں پڑھتے ہوئے دیکھا تو فرمایا : نماز جمع ہوگی سنتوں کی ضرورت نہیں۔یہ فرما کر آگے کو بڑھے اور پھر پیچھے پھر کر دیکھا کہ میں نماز میں مشغول تھا تو پھر فرمایا: نماز جمع ہوگی سنتیں پڑھنے کی ضرورت نہیں۔یہ فرما کر مسجد کے اندر داخل ہو گئے اور میں نے کھڑے کھڑے سلام پھیر دیا اور سنتیں نہیں پڑھیں۔جتنے آدمی کمرے میں موجود تھے۔اُن سب پر اس بات کا خاص اثر ہوا کہ حضرت صاحب نے نماز کے جمع ہونے کے وقت سنتوں کا پڑھا جانا پسند نہیں فرمایا۔( ذکر حبیب از حضرت مفتی محمد صادق صاحب صفحہ 64،63) نماز میں قرآن شریف کھول کر پڑھنا مناسب نہیں ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب نے ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں عرض کیا کہ قرآن شریف کی لمبی سورتیں یاد نہیں ہوتیں اور نماز میں پڑھنے کی خواہش ہوتی ہے۔کیا ایسا کر سکتے ہیں کہ قرآن شریف کو کھول کر سامنے کسی رحل یا میز پر رکھ لیں یا ہاتھ میں لے لیں اور پڑھنے کے بعد الگ رکھ کر رکوع سجود کر لیں اور دوسری رکعت میں پھر ہاتھ میں اُٹھا لیں۔حضرت صاحب نے فرمایا:۔اس کی کیا ضرورت ہے۔آپ چند سورتیں یا د کر لیں اور وہی پڑھ لیا کریں۔“ ذکر حبیب از حضرت مفتی محمد صادق صاحب صفحہ 174 ) امام وقت کے بلانے پر نما ز تو ڑنا حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے بیان کیا کہ ایک دفعہ میں مسجد مبارک میں ظہر کی نماز سے پہلی سنتیں پڑھ رہا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیت الفکر کے اندر سے مجھے آواز دی۔میں نماز توڑ کر حضرت کے پاس چلا گیا اور حضرت سے عرض کیا کہ حضور میں نماز توڑ کر حاضر ہوا ہوں۔آپ نے فرمایا اچھا کیا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ بیت الفکر اس حجرہ کا نام ہے جو