فقہ المسیح — Page 107
فقه المسيح 107 متفرق مسائل نماز حضرت کے مکان کا حصہ ہے اور مسجد مبارک کے ساتھ شمالی جانب متصل ہے۔ابتدائی ایام میں حضرت عموما اس کمرہ میں نشست رکھتے تھے اور اسی کی کھڑ کی میں سے نکل کر مسجد میں تشریف لایا کرتے تھے۔میاں عبداللہ صاحب سنوری نے بیان کیا کہ یہ ابتدائی زمانہ کی بات ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ رسول کی آواز پر نماز توڑ کر حاضر ہونا شرعی مسئلہ ہے۔دراصل بات یہ ہے کہ عمل صالح کسی خاص عمل کا نام نہیں بلکہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کا نام ہے۔ضرورتا نماز توڑنا (سیرت المہدی جلد 1 صفحہ 163 ) حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ مسجد مبارک میں نماز ظہر یا عصر شروع ہو چکی تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام درمیان میں سے نماز تو ڑ کر کھڑکی کے راستہ گھر میں تشریف لے گئے اور پھر وضو کر کے نماز میں آملے اور جو حصہ نماز کا رہ گیا تھا وہ امام کے سلام پھیرنے کے بعد پورا کیا۔یہ معلوم نہیں کہ حضور بھول کر بے وضو آ گئے تھے یا رفع حاجت کے لئے گئے تھے۔(سیرت المہدی جلد 1 صفحہ 783) سخت مجبوری میں نماز توڑنا جائز ہے افریقہ سے ڈاکٹر محمد علی خاں صاحب نے استفسار کیا کہ اگر ایک احمدی بھائی نماز پڑھ رہا ہو اور باہر سے اس کا افسر آجاوے اور دروازہ کو ہلا ہلا کر اور ٹھونک ٹھونک کر پکارے اور دفتر یا دوائی خانہ کی چابی مانگے تو ایسے وقت میں اسے کیا کرنا چاہیے؟ اسی وجہ سے ایک شخص نوکری سے محروم ہو کر ہندوستان واپس کیا گیا ہے۔