فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 105 of 611

فقہ المسیح — Page 105

فقه المسيح 105 ساتھ مخصوص ہیں اس لئے نماز جمعہ سے قبل سنتیں بہر حال پڑھنی چاہئیں متفرق مسائل نماز الفضل 14 اکتوبر 1946 صفحہ 4) حضرت مفتی محمد صادق صاحب تحریر کرتے ہیں کہ غالبا یہ واقعہ مارچ 1899ء کا ہے جبکہ میں لاہور سے چند روز کے واسطے قادیان آیا ہوا تھا۔چونکہ میں اُس کمرے میں ٹھیرایا گیا جو مسجد مبارک اور حضرت مسیح موعود کے کمرے کے درمیان ہے۔اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نمازوں کے واسطے اُسی کمرے میں سے گذر کر آتے تھے اور اس کے علاوہ بھی کئی دفعہ دروازہ کھولتے اور مجھے کوئی شے کھانے کی دے جاتے مثلاً آم یا کوئی اور شے۔عاجز کے حال پر حضور کی نہایت مہربانی اور شفقت تھی۔انہیں ایام میں ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا: آج نماز ظہر وعصر ہر دو جمع کر کے پڑھی جائیں گی۔عموما ایسی جمع کے دن ظہر کی نماز اپنے وقت سے ذرا پیچھے اور عصر اپنے وقت سے قبل پڑھی جاتی تھی۔یا عصر کو ظہر کے وقت ساتھ ملا لیا جاتا تھا۔یا ظہر میں دیر کر کے ہر دو نمازیں عصر کے وقت پڑھ لی جاتی تھیں ) میں چار رکعت سنت پڑھنے کے واسطے اُسی کمرے میں کھڑا ہوا جیسا کہ ظہر کی نماز کے چار رکعت فرض سے قبل سنتیں پڑھی جاتی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہمیشہ اپنے کمرے میں ہی وضو کر کے اور پہلی سنتیں پڑھ کر مسجد میں تشریف لایا کرتے تھے مگر پچھلی دو رکعت سنت عموما مسجد ہی میں پڑھا کرتے تھے اور اس کے بعد تھوڑی دیر کے واسطے و ہیں مسجد میں خدام کی ملاقات اور بات چیت کے واسطے بیٹھ جایا کرتے تھے۔غرض میں چار رکعت سنت کی نیت کر کے ابھی کھڑا ہی ہوا تھا اور چند احباب اور بھی کمرے میں تھے کیونکہ مسجد مبارک میں کمی گنجائش کے سبب بعض احباب ساتھ کے کمروں میں نماز میں شامل ہو جاتے تھے۔حضرت صاحب نے مسجد جانے کے واسطے دروازہ کھولا۔۔