فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 104 of 611

فقہ المسیح — Page 104

فقه المسيح 104 متفرق مسائل نماز میں فروکش تھے۔وہ لوگ بھی مسجد مبارک میں ہی آگئے۔اور غیظ وغضب سے بھرے ہوئے معلوم ہوتے تھے۔انہوں نے اسلام پر اعتراضات کرنے شروع کر دیئے۔چنانچہ انہوں نے سوال کیا کہ مرجاجی ! ہمیں یہ بتاؤ کہ جس ملک میں چھ مہینے کا دن اور چھ مہینے کی رات ہوتی ہے۔وہاں مسلمان کیا کریں گے۔یہ سوال انہوں نے اپنے خیال میں عقدہ لا ینحل سمجھ کر پیش کیا۔لیکن حضرت اقدس نے نہایت آسانی کے ساتھ فورا جواب دیا کہ اسلام کا کوئی حکم ایسا نہیں کہ جو انسانی طاقت سے باہر ہو۔لہذا اگر انسان چھ مہینے کا روزہ نہیں رکھ سکتا۔تو نہ رکھے۔اس صورت میں اس پر کوئی گناہ نہیں۔رہا نماز کے وقتوں کا سوال۔سو آج کل تو گھڑیوں کے ذریعہ نمازیں پڑھی جاسکتی ہیں اور دن اور رات کا اندازہ بھی اس مقام پر شرق اور غرب کے لحاظ سے کیا جا سکتا ہے۔اس پر وہ سکھ خاموش اور لاجواب ہو گئے اور جو اعتراض کا پہاڑ بنا کر وہ لائے تھے۔وہ حضور نے ذراسی پھونک سے ہی اُڑا دیا۔(اصحاب احمد جلد 6 صفحہ 112 ، 113 روایت قاضی ضیاء الدین صاحب۔نیا ایڈیشن ) نماز جمع کرنے کی صورت میں سنتیں معاف ہو جاتی ہیں سوال:۔نماز جمع کرنے کی صورت میں سنتیں پڑھنی چاہئیں یا نہیں؟ اس سوال کے جواب میں حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں: حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے پہلے تو اس بات کے متعلق علماء میں اختلاف تھا لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے عمل سے ہم نے جو کچھ تواتر سے دیکھا ہے اور پوچھنے والوں کے جواب میں آپ نے ہمیشہ جو کچھ فرمایا ہے وہ یہی ہے کہ نماز میں جمع کرنے کی صورت میں فرضوں سے پہلی سنتیں بھی اور بعد کی سنتیں بھی معاف ہو جاتی ہیں۔سوال:۔اگر نماز جمعہ کے ساتھ عصر کی نماز جمع کی جائے تو کیا پھر بھی سنتیں معاف ہیں؟ جواب:۔نماز جمعہ سے قبل جو سنتیں پڑھی جاتی ہیں وہ دراصل جمعہ کے نفل ہیں اور جمعہ کے