فقہ المسیح — Page 84
فقه المسيح 84 نماز با جماعت غیر احمدیوں کے پیچھے نماز نہ پڑھو حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب بیان کرتے ہیں کہ حافظ محمد ابراہیم صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ غالبا 1904ء کا واقعہ ہے کہ ایک شخص نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام سے مسجد مبارک میں سوال کیا کہ حضور اگر غیر احمدی با جماعت نماز پڑھ رہے ہوں تو ہم اس وقت نماز کیسے پڑھیں؟ آپ نے فرمایا۔تم اپنی الگ پڑھ لو۔اس نے کہا کہ حضور جب جماعت ہو رہی ہو تو الگ نماز پڑھنی جائز نہیں۔فرمایا : کہ اگر ان کی نماز با جماعت عند اللہ کوئی چیز ہوتی تو میں اپنی جماعت کو الگ پڑھنے کا حکم ہی کیوں دیتا۔ان کی نماز اور جماعت جناب الہی کے حضور کچھ حقیقت نہیں رکھتی۔اس لئے تم اپنی نمازا الگ پڑھو اور مقررہ اوقات میں جب چا ہوا دا کر سکتے ہو۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ جس وقت کسی مسجد میں دوسروں کی جماعت ہورہی ہو ، ضرور اسی وقت نماز پڑھی جائے کیونکہ اس سے بعض اوقات فتنہ کا احتمال ہوتا ہے بلکہ غرض یہ ہے کہ ایک احمدی بہر حال الگ نماز پڑھے اور دوسروں کے پیچھے نہ پڑھے۔سیرت المہدی جلد 1 صفحہ 527،526) غیروں کے پیچھے نماز جائز نہ ہونے کی وجہ کسی نے سوال کیا کہ جو لوگ آپ کے مرید نہیں ہیں ان کے پیچھے نماز پڑھنے سے آپ نے اپنے مریدوں کو کیوں منع فرمایا ہے۔حضرت نے فرمایا: جن لوگوں نے جلد بازی کے ساتھ بدظنی کر کے اس سلسلہ کو جو اللہ تعالیٰ نے قائم کیا ہے، رڈ کر دیا ہے اور اس قدرنشانوں کی پروا نہیں کی اور اسلام پر جو مصائب ہیں اس سے لا پروا پڑے ہیں۔ان لوگوں نے تقویٰ سے کام نہیں لیا اور اللہ تعالیٰ اپنے پاک کلام میں فرماتا ہے۔إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللهُ مِنَ الْمُتَّقِينَ (المائدة: 28) خدا صرف متقی لوگوں کی نماز