فقہ المسیح — Page 83
فقه المسيح 83 نماز با جماعت امام الصلوۃ کے لئے ہدایت کسی شخص نے ذکر کیا کہ فلاں دوست نماز پڑھانے کے وقت بہت لمبی سورتیں پڑھتے ہیں۔فرمایا: امام کو چاہئے کہ نماز میں ضعفاء کی رعایت رکھے۔“ امام بطور وکیل کے ہوتا ہے کسی کے سوال پر فر مایا: ( بدر - 20 را پریل 1905 صفحه (2) پر ہیز گار کے پیچھے نماز پڑھنے سے آدمی بخشتا جاتا ہے نماز تو تمام پر کتوں کی گئی ہے۔نماز میں دعا قبول ہوتی ہے۔امام بطور وکیل کے ہوتا ہے اُس کا اپنا دل سیاہ ہو تو پھر وہ دوسروں کو کیا برکت دے گا۔(الحام 31 جولائی 1901 ، صفحہ 4) مکفرین و مکذبین کے پیچھے نماز پڑھنا حرام ہے تکفیر کرنے والے اور تکذیب کی راہ اختیار کرنے والے ہلاک شدہ قوم ہے اس لئے وہ اس لائق نہیں ہیں کہ میری جماعت میں سے کوئی شخص ان کے پیچھے نماز پڑھے کیا زندہ مردہ کے پیچھے نماز پڑھ سکتا ہے؟ پس یا درکھو کہ جیسا خدا نے مجھے اطلاع دی ہے تمہارے پر حرام ہے اور قطعی حرام ہے کہ کسی ملکفر اور مکذب یا متردد کے پیچھے نماز پڑھو بلکہ چاہئے کہ تمہارا وہی امام ہو جو تم میں سے ہو۔اسی کی طرف حدیث بخاری کے ایک پہلو میں اشارہ ہے کہ اِمَامُكُمْ مِنْكُم - ضمیمہ تحفہ گولڑویہ۔روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 64 حاشیہ)