فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 85 of 611

فقہ المسیح — Page 85

فقه المسيح 85 نماز با جماعت قبول کرتا ہے۔اس واسطے کہا گیا ہے کہ ایسے آدمی کے پیچھے نماز نہ پڑھو جس کی نماز خود قبولیت کے درجہ تک پہنچنے والی نہیں۔( الحکم 17 مارچ 1901 صفحہ 8 ) دو آدمیوں نے بیعت کی۔ایک نے سوال کیا کہ غیر احمدی کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں؟ فرمایا : وہ لوگ ہم کو کافر کہتے ہیں۔اگر ہم کا فرنہیں ہیں تو وہ کفر لوٹ کر اُن پر پڑتا ہے۔مسلمان کو کافر کہنے والا خود کا فر ہے۔اس واسطے ایسے لوگوں کے پیچھے نماز جائز نہیں۔پھر اُن کے درمیان جولوگ خاموش ہیں وہ بھی انہیں میں شامل ہیں۔اُن کے پیچھے بھی نماز جائز نہیں کیونکہ وہ اپنے دل کے اندر کوئی مذہب مخالفانہ رکھتے ہیں جو ہمارے ساتھ بظاہر شامل نہیں ہوتے۔( بدر 15 دسمبر 1905 صفحه (2) اپنی جماعت کا غیر کے پیچھے نماز نہ پڑھنے کے متعلق ذکر تھا۔فرمایا: صبر کرو اور اپنی جماعت کے غیر کے پیچھے نماز مت پڑھو۔بہتری اور نیکی اسی میں ہے اور اسی میں تمہاری نصرت اور فتح عظیم ہے اور یہی اس جماعت کی ترقی کا موجب ہے۔دیکھو دُنیا میں رُوٹھے ہوئے اور ایک دوسرے سے ناراض ہونے والے بھی اپنے دشمن کو چار دن منہ نہیں لگاتے اور تمہاری ناراضگی اور رُوٹھنا تو خدا کے لئے ہے۔تم اگر ان میں رلے ملے رہے تو خدا تعالیٰ جو خاص نظر تم پر رکھتا ہے ، وہ نہیں رکھے گا۔پاک جماعت جب الگ ہو تو پھر اس میں ترقی ہوتی ہے۔غیروں کی مساجد میں نماز (الحکم 10 راگست 1901 ، صفحہ 3) ایک شخص نے بعد نماز مغرب بیعت کی اور عرض کیا کہ الحکم میں لکھا ہوا دیکھا ہے کہ غیر از