فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 82 of 611

فقہ المسیح — Page 82

فقه المسيح 82 =2 نماز با جماعت چند ایک احباب ان کے پیچھے مقتدی بن گئے اور جماعت ہوگئی۔حضرت اقدس کو علم ہوا کہ ایک دفعہ جماعت ہو چکی ہے اور اب دوسری ہونے والی ہے تو آپ نے فرمایا: ایک مقام پر دو جماعتیں ہرگز نہ ہونی چاہئیں۔“ 66 (البدریکم اگست 1904ء صفحہ 4) حضرت مصلح موعودؓ کے مندرجہ ذیل ارشاد سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ایک جگہ پر دو نمازیں پڑھنے کی ممانعت کی کیا وجہ ہے؟ حضرت مصلح موعودؓ سے ایک صاحب نے ایک دوسرے دوست کے حوالہ سے عرض کی که حضور ! یہ کہتے تھے کہ ایک جماعت کے بعد دوسری نہیں ہونی چاہئے۔فرمایا : یہ تو منع نہیں نا پسندیدہ ہے وہ بھی مسجد میں۔کیونکہ اس طرح اگر الگ الگ نمازیں ہونے لگیں تو چند آدمی آئیں اور نماز پڑھیں اور چل دیئے۔پھر اور چند آئے اور جماعت کو کر کے چل دیئے۔تو اس طرح جماعت کی اصل غرض جو ہے وہ مفقود ہو جاتی ہے اور حضرت مسیح موعود نے اس کو نا پسند فرمایا ہے۔- الحکم 28 مارچ 1920 ء صفحہ 3 ) بغیر وجہ کے جماعت الگ الگ ٹکڑوں میں نہ ہو ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ حضورِ اقدس اپنی کوٹھڑی میں تھے اور ساتھ کی کوٹھڑی میں نماز ہونے لگی۔آدمی تھوڑے تھے۔ایک ہی کو ٹھڑی میں جماعت ہو سکتی تھی۔بعض احباب نے خیال کیا کہ شاید حضرت اقدس اپنی کوٹھڑی میں ہی نماز ادا کر لیں گے، کیونکہ امام کی آواز وہاں پہنچتی ہے۔اس پر آپ نے فرمایا جماعت کے ٹکڑے الگ الگ نہ ہونے چاہئیں بلکہ اکٹھی پڑھنی چاہئے۔ہم بھی وہاں ہی پڑھیں گے یہ اس صورت میں ہونا چاہئے جبکہ جگہ کی قلت ہو۔“ 66 (البدر یکم اگست 1904 صفحہ 4)