فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 81 of 611

فقہ المسیح — Page 81

فقه المسيح 81 نماز با جماعت پڑھتا ہے میرے نزدیک خواہ وہ کوئی ہو احمدی ہو یا غیر احمدی، اس کے پیچھے نماز نہیں ہوسکتی۔امام اتقی ہونا چاہئے۔بعض لوگ رمضان میں ایک حافظ مقرر کر لیتے ہیں اور اس کی تنخواہ بھی ٹھہرا لیتے ہیں یہ درست نہیں۔ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ اگر کوئی محض نیک نیتی اور خدا ترسی سے اس کی خدمت کر دے تو یہ جائز ہے۔(الحکم 10 نومبر 1905 صفحہ 6) پیشہ ور نماز پڑھانے والے کے پیچھے نماز درست نہیں میرے نزدیک جو لوگ پیشہ کے طور پر نماز پڑھاتے ہیں ان کے پیچھے نماز درست نہیں وہ اپنی جمعرات کی روٹیوں یا تنخواہ کے خیال سے نماز پڑھاتے ہیں، اگر نہ ملے تو چھوڑ دیں۔معاش اگر نیک نیتی کے ساتھ حاصل کی جاوے تو عبادت ہی ہے۔جب آدمی کسی کام کے ساتھ موافقت کرے اور پکا راہ اختیار کرلے تو تکلیف نہیں ہوتی وہ سہل ہو جاتا ہے۔البدر 9 جنوری 1903 ، صفحہ 85) دوسری جماعت حضرت مفتی محمد صادق صاحب روایت کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود نے فرمایا: مسجد میں جب ایک جماعت ہو چکے، تو حسب ضرورت دوسری جماعت بھی جائز ہے۔“ ذکر حبیب از حضرت مفتی محمد صادق صاحب صفحہ 83) بعض صورتوں میں دو جماعتوں کی ممانعت حضرت مسیح موعود کے ملفوظات کے ڈائری نو لیس لکھتے ہیں : سفر گورداسپور میں نماز کے متعلق ذیل کے مسائل میری موجودگی میں حل ہوئے۔ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ حضرت اقدس ابھی وضو فرما رہے تھے اور مولانا محمد احسن صاحب بوجہ علالت طبع نماز کے لئے کھڑے ہو گئے۔اُن کا خیال تھا کہ میں معذور ہوں۔الگ پڑھ لوں،