فقہ المسیح — Page 65
فقه المسيح 65 ارکان نماز رہے۔تو بھی وہ اس قابل ہوسکتا ہے کہ ربوبیت کے مد مقابل میں اپنی عبودیت کو ڈال دے۔غرض مدعا یہ ہے کہ نماز میں لذت اور سرور بھی عبودیت اور ربوبیت کے ایک تعلق سے پیدا ہوتا ہے۔جب تک اپنے آپ کو عدم محض یا مشابه بالعدم قرار دے کر جور بوبیت کا ذاتی تقاضہ ہے نہ ڈال دے اُس کا فیضان اور پر تو اس پر نہیں پڑتا اور اگر ایسا ہو تو پھر اعلیٰ درجہ کی لذت حاصل ہوتی ہے جس سے بڑھ کر کوئی حظ نہیں ہے۔تکبیر تحریمہ ( الحکم 12 اپریل 1899 صفحہ 5) حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ خواجہ عبدالرحمن صاحب ساکن کشمیر نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ میرے والد صاحب بیان کرتے تھے کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نماز کی نیت باندھتے تھے تو حضور اپنے ہاتھوں کے انگوٹھوں کو کانوں تک پہنچاتے تھے یعنی یہ دونوں آپس میں چھو جاتے تھے۔(سیرت المہدی جلد 1 صفحہ 745،744) نماز میں بسم الله جهرا یا میرا دونوں طرح جائز ہے بسم۔حضرت خلیفۃ اصیح الاول نے فرمایا : بسم اللہ جہڑا اور آہستہ پڑھنا، ہر دو طرح جائز ہے۔ہمارے حضرت مولوی عبدالکریم صاحب ( اللهم اغفره وارحمه ) جو شیلی طبیعت رکھتے تھے ، بسم اللہ جھرا پڑھا کرتے تھے۔حضرت مرزا صاحب جھرا نہ پڑھتے تھے ایسا ہی میں بھی آہستہ پڑھتا ہوں۔صحابہ میں ہر دو قسم کے گروہ ہیں۔میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ کسی طرح کوئی پڑھے ، اس پر جھگڑا نہ کرو۔ایسا ہی آمین کا معاملہ ہے، ہر دو طرح جائز ہے۔بعض جگہ یہود اور عیسائیوں کو مسلمانوں کا