فقہ المسیح — Page 64
فقه المسيح ارکان نماز کی حقیقت 64 ارکان نماز ارکان نماز حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ارکان نماز کی حکمتیں بیان کرتے ہوئے فرمایا : ارکان نماز در اصل روحانی نشست و برخاست۔۔۔۔ہیں۔انسان کو خدا تعالیٰ کے روبرو کھڑا ہونا پڑتا ہے اور قیام بھی آداب خدمتگاران میں سے ہے۔رکوع جو دوسرا حصہ ہے بتلاتا ہے کہ گویا تیاری ہے کہ وہ تعمیل حکم کو کس قدر گردن جھکاتا ہے اور سجدہ کمال ادب اور کمال تذلل اور نیستی کو جو عبادت کا مقصود ہے ظاہر کرتا ہے۔یہ آداب اور طرق ہیں جو خدا تعالیٰ نے بطور یادداشت کے مقرر کر دیئے ہیں۔اور جسم کو باطنی طریق سے حصہ دینے کی خاطر ان کو مقرر کیا ہے۔علاوہ ازیں باطنی طریق کے اثبات کی خاطر ایک ظاہری طریق بھی رکھ دیا ہے۔اب اگر ظاہری طریق میں (جو اندرونی اور باطنی طریق کا ایک عکس ہے۔) صرف نقال کی طرح نقلیں اتاری جاویں اور اسے ایک بار گراں سمجھ کر اُتار پھینکنے کی کوشش کی جاوے تو تم ہی بتاؤ اس میں کیا لذت اور حظ آ سکتا ہے؟ اور جب تک لذت اور سرور نہ آئے اُس کی حقیقت کیونکر متفق ہوگی اور یہ اس وقت ہوگا جبکہ روح بھی ہمہ نیستی اور تذلل تام ہو کر آستانہ الوہیت پر گرے اور جو زبان بولتی ہے روح بھی بولے۔اُس وقت ایک سرور اور نور اور تسکین حاصل ہو جاتی ہے۔میں اس کو اور کھول کر لکھنا چاہتا ہوں کہ انسان جس قدر مراتب طے کر کے انسان ہوتا ہے یعنی کہاں نطفہ بلکہ اس سے بھی پہلے نطفہ کے اجزاء یعنی مختلف قسم کی اغذیہ اور اُن کی ساخت اور بناوٹ۔پھر نطفہ کے بعد مختلف مدارج کے بعد بچہ ، پھر جوان ، بوڑھا۔غرض ان تمام عالموں میں جو اس پر مختلف اوقات میں گزرے ہیں۔اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کا معترف ہو اور وہ نقشہ ہر آن اس کے ذہن میں کھنچا