فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 64
۶۴ دفعہ نمبر ۲۶ اگر نکاح کے بعد اقل مدت حمل سے پہلے بچہ پیدا ہو اور خاوند بچے کا باپ ہونے سے انکار کرے تو اس کا نسب ثابت نہیں ہوگا۔تشریح : دفعہ نمبر ۶ ۲ تا دفعہ نمبر ۳۱ در حقیقت نسب سے متعلق بعض منفی صورتیں ہیں۔چونکہ منفی صورتوں میں بچے اور اس کی ماں کے حقوق پر اثر پڑتا ہے اس لئے ان کو الگ بالتفریح بیان کر دیا گیا ہے۔اقل مدت حمل سے پہلے بچے کی پیدائش کی صورت میں اگر خاوند بچے کا باپ ہونے کا اقرار کرے تو اس اقرار کی بنیا د پر اس کا نسب ثابت ہوگا کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: الوَلَدُ للفِرَاشِ وَالْعَاهِرِ الْحَجَرُ له یعنی شریعت نے فراش اور نکاح کو اثبات نسب کا مدار قرار دیا ہے۔فراش سے مراد مرد اور عورت کا وہ تعلق ازدواج ہے جس کی شریعت نے اجازت دی ہے یعنی یہ تعلق نکاح کی بنیاد پر قائم ہوا ہوتا ہم اس صورت میں اگر خاوند ثبوت نسب سے انکار کرے تو اسے لعان کرنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا کیونکہ بظا ہر حالات اس کا یہ انکار درست معلوم ہوتا ہے۔درحقیقت عورت کے لبطن سے بچے کی پیدائش محسوس اور مشہور ہوتی ہے اِس لئے اگر وہ بچے کی ولادت سے انکار بھی کرے تو اس کا یہ انکار درست تسلیم نہیں کیا جائے گا کیونکہ اس کا انکار مشاہدہ کے خلاف ہے لیکن باپ کی ابوت محسوس اور مشہور نہیں ہوتی اس لئے اس کے انکار کی صورت میں طبعی حالات کو دیکھا جائے گا۔اگر طبعی حالات اس کے انکار کی تردید نہیں کرتے تو اس کے انکار کو درست تسلیم کر لیا جائے گا اور ایسی صورت میں اسے لعان کرنے یا کوئی اور قانونی ثبوت پیش کرنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔له بخاری کتاب الفرائض باب من ادعى اخا او ابن اخر منت - ابوداؤد ما 1