فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء)

by Other Authors

Page 63 of 135

فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 63

۶۳ ہو تو اسلام نے قطع نظر ولادت کے مرد کے محض اقرار سے نسب کو درست تسلیم کیا ہے لیکن اس طرح محض اقرار کے ذریعہ نسب درست ٹھہرانے کے لئے ضروری ہے کہ اقرار کرنے والے اور بچے کی عمر میں اتنا تفاوت ضرور ہو کہ مقر کا باپ ہونا عقلاً محال نہ ہو۔بعض فقہاء نے یہ لکھا ہے کہ اقرار کرنے والا کم از کم ساڑھے بارہ سال اس شخص سے بڑا ہو جس کے باپ ہونے کا وہ اقرار کرتا ہے۔فقہ احمدیہ میں اس کے لئے ماہ و سال کی تعیین ضروری نہیں البتہ حالات معلومہ کے مطابق مقر کا باپ ہونا عقلاً محال نہیں ہونا چاہیئے۔اسی طرح اقرار ایسا ہونا چاہیے کہ اس کی وجہ سے ولادت کو صحیح قرار دینا دیگر پہلوؤں کے لحاظ سے ایک حد تک ممکن ہو۔چنانچہ مندرجہ ذیل صورتیں ایسی ہیں کہ ان میں اقرار کے با وجو د نسب ثابت نہیں ہوگا۔ا جبکہ بچہ کا ولد الزنا ہونا ثابت ہو چکا ہو۔ب۔جن کا دعوی ہو وہ دونوں میاں بیوی رہے ہوں اور ان کے درمیان لعان ہو چکا ہو۔ج - اقرار کرنے والے اور مقرلہ کی عمروں میں اتنا تفاوت ہو کہ ان کا آپس میں باپ بیٹا ہونا ممکن نہ ہو۔د - بچے کا نسب معروف ہوں۔بچے کی ماں کیسی دوسرے شخص کے نکاح میں ہونے کی وجہ سے اقرار کرنے والے کی کیسی جہت سے زوجہ نہ بن سکتی ہو۔و۔بچہ اس اقرار کی تردید کرتا ہو۔ز - اقرار کرنے والا اس سے قبل کسی شکل میں انکار کر چکا ہو اور اس انکار کی وجہ سے اس کے خلاف فیصلہ ہو چکا ہو۔مندرجہ بالا صورتوں کے علاوہ باقی صورتوں میں مقر کا اقرار نسب درست سمجھا جائے گا اور اقرار کرنے کے بعد وہ اس نسب سے انکار نہیں کر سکے گا۔