فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 65
۶۵ دفعہ نمبر ۲۷ اگر خاوند قاضی کے سامنے اپنی بیوی پیر الزام لگائے کہ اس نے ناجائز بیتہ جنا ہے اور بیوی اس الزام کو درست تسلیم کرے تو مولود کا نسب ثابت نہیں ہوگا۔تشریح :- چونکہ انکار نسب یا انتفاء نسب بہت سے حقوق و فرائض پر اثر انداز ہوتا ہے مثلاً وہ دونوں ایک دوسرے کی وراثت سے محروم ہو جاتے ہیں خاوند پر اس بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داریاں ختم ہو جاتی ہیں اس لئے اس قسم کا ادعا یا الزام لگانا قاضی کے روبر و ضروری ہے تاکہ یہ امریکارڈ میں آجائے اور خاوند دیگر قانونی الجھنوں سے نجات حاصل کر لے اس الزام اور دعوی کو صرف اس صورت میں درست سمجھا جائے گا جبکہ بیوی بھی اس الزام کو درست تسلیم کرے ورنہ خاوند کو لعان پر مجبور کیا جائے گا اور لعان سے انکار کی صورت میں اسے زنا کی تہمت (قذف) کا مجرم قرار دیا جائے گا اور نسب بھی ثابت ہوگا بشرطیکہ دوسری شرائط موجود ہوں۔دفعہ نمبر ۲۸ اگر خاوند اور بیوی قاضی کے سامنے لعان کریں اور ساتھ ہی خاوند انکار نسب کرے تو مولود کا نسب ثابت نہ ہوگا۔تشریح :- جمهور فقہاء کے نزدیک لعان کی تعریف یہ ہے کہ جب خاوند قاضی کے سامنے جا کر اپنی بیوی پر زنا کا الزام لگائے تو قاضی کے سامنے خاوند چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر شہادت دے کہ اس نے له سوائے اس کے کہ قاضی سیاستا خاوند کو بچہ کے نان و نفقہ کا ذمہ دار قرار دے۔