فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء)

by Other Authors

Page 62 of 135

فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 62

۶۲ وحَمْلُهُ وَفِضْلُهُ ثَلْتُونَ شَهْرًا یعنی اس کے جنین کی صورت میں اُٹھانے اور اس کے دُودھ چھڑانے پر میں ہے لگے تھے۔ایک اور جگہ فرمایا : وَفِضْلَهُ فِي عَامَيْنِ یعنی اس کا دودھ چھڑانا دو سال میں ہوا۔گویا باری تعالیٰ نے حمل اور فصال کی مجموعی مدت تین ماہ قرار دی ہے اور فصال یعنی دودھ چھڑانے کی مدت دو سال۔اِس طرح حمل کی کم از کم مدت چھ ماہ ٹھہرتی ہے لہذا اگر بچہ نکاح کے چھ ماہ بعد پیدا ہوا ہو تو وہ بدوں دعوی ثابت النسب ہو گا۔اس سے کم مدت میں پیدا ہونے والا بچه محض ولادت کی بناء پر ثابت النسب نہیں ہوگا۔زیادہ سے زیادہ مدت حمل عمومی طور پر اگرچه ۲۸۰ یوم بنتی ہے مگر امام ابوحنیفہ نے استثنائی صورتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اور بچے کے نسب کو حتی الامکان صحیح ٹھہرانے کے لئے زیادہ سے زیادہ مدت حمل دو سال قرار دی ہے اس لحاظ سے ان کے نزدیک خاوند کی وفات کے بعد اگر کوئی بیوہ دو سال کی مدت کے اندر اندر بچہ جنے اور دعوی کرے کہ یہ اس کے فوت شدہ خاوند کا بچہ ہے تو قانونا اسے درست اور ثابت النسب سمجھا جائے گا یعنی وہ بچہ اس کے فوت شدہ خاوند کا ہوگا لیکن اس دعوی کی بناء پہ نہ کہ محض ولادت کی بناء پر۔جماعت احمدیہ کے نز دیک طبعی مدت حمل کا فیصلہ قانون اور طبعی شواہد کے مطابق ہونا چاہیئے کیونکہ خدا کا قول اس کے فعل کے خلاف نہیں ہو سکتا اس لئے صحت نسب کے لئے قوانین طبیعی کو نظر اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔پس متنازعہ فیہ صورت میں ماہر اطباء کی رائے کو اہمیت دی جائے گی ہیں ب :- اقرار کی بناء پر ثبوت نسب :- اگر ولادت ایسے حالات میں ہوئی ہو کہ اس سے نسب متعین نہ ہوتا ہو یا اس میں کوئی شبہ له سورة لقمان آیت ۱۵ له سورة الاحقاف آیت ۱۶ سے مدت حمل کی اکثر طبیبوں کے نز دیک ڈھائی برس بلکہ بعض کے نز دیک انتہائی مدت حمل کی تین برس تک بھی ہے۔مجموعہ اشتہارات حضرت مسیح موعود جلد اوّل صفحہ ۱۲۸ شائع کردہ الشرکة )