فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء)

by Other Authors

Page 41 of 135

فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 41

ایک دفعہ ایک عورت نے اپنے جائز ولی کی بجائے کیسی دوسرے شخص کو اپنا ولی بنا کر نکاح کر لیا۔جب حضرت عمر کے پاس یہ خبر پہنچی تو آپ نے نکاح کرنا جائز قرار دیا اور ولی بننے والے اور نکاح کرنے والے ونوں کو کوڑے لگوائے۔روایت کے الفاظ یہ ہیں :- عنْ عِكْرَمَةَ بْنِ خَالِدٍ قَالَ جَمَعَتِ الطَّرِيقُ رَكْبًا فَجَعَلَتْ اِمْرَأَةٌ مِنْهُمُ تب أمْرَهَا بِيَدِ رَجُلٍ غَيْرَ وَلِي فَانْكَحَهَا فَبَلَغَ ذلِكَ عُمَرَ فَجَلَدَ النَّالِعَ وَالْمُنْكِحَ وَرَدُّ نِكَا حَهَا۔له اسی طرح حضرت علی بھی اِس بارہ میں سختی فرمایا کرتے تھے اور ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرنیوالے کو کوڑے لگوایا کرتے تھے۔روایت کے الفاظ یہ ہیں :- ما كانَ اَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشَدَّ فِي النِّكَاحِ بِخَيْرٍ وَلِي مِنْ عَلَقٍ وَكَانَ يَضْرِبُ فِيهِ - لَهُ ب : استحقاق ولایت نکاح ولایت کا حق کیسے ہے اس لحاظ سے سب سے مقدم ولی عورت کا باپ ہے اس کے بعد علی الترتیب دادا، سگا بھائی، سوتیلا بھائی، چچا وغیرہ قریبی عصبات عورت کے نکاح کے لئے ولی ہو سکتے ہیں۔نکاح کی ولایت کا مندرجہ بالا حق رشتہ داروں میں اقر بیت کی بنیاد پر جتنا کوئی رشتہ دار نہ یادہ قریبی ہوگا اسی نسبت سے اسے حق ولایت حاصل ہوگا۔قریبی ولی کی موجودگی میں دور کے ولی کا حق ولایت مؤثر نہیں ہوگا تا ہم سب بھائی حق ولایت میں یکساں ہیں ان میں سے کوئی بھی عاقل بالغ بھائی بہن کے نکاح کے لئے ولی بن سکتا ہے عمر کا فرق موثر نہیں ہوگا۔ج :۔فقہ احمدیہ کی رو سے ولی کے مفہوم میں عمومیت ہے جری قریبی رشتہ دار بھی ولی ہے اور جماعت احمدیہ کے امام کو بھی ولایت عامہ حاصل ہے۔پس اگر کسی عورت کا کوئی قریبی جدی رشتہ دار ولی نہ ہو یا انصاف سے کام نہ لے اور اس حق کے استعمال میں لڑکی کا مفاد اس کے مد نظر نہ ہو اور لڑکی پر جبر کر رہا ہو تو لڑکی یا اس کے وکیل مجاز کی درخواست پر امام جماعت نحو دیا اس غرض کے لئے ه دار قطني كتاب النكاح۔۳۸۳ ۳۸۵ "