فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء)

by Other Authors

Page 40 of 135

فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 40

اسی مضمون کی روایات حضرت علی بن ابی طالب ، حضرت عبد اللہ بن عباس ، حضرت معاذ بن جبل حضرت عبد اللہ بن عمر، حضرت ابو ذر غفاری نے حضرت عبد اللہ بن مسعود اور حضرت انس بن مالک سے بھی مروی ہیں۔لے اسی طرح امہات المؤمنین میں سے حضرت عائشه نم حضرت ام سلیم اور حضرت زینب بنت جحش سے بھی صحیح سند کے ساتھ اس مضمون کی روایات موجود ہیں۔سے حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر کوئی عورت ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرے تو اس کا نکاح باطل ہے۔حدیث کے الفاظ یہ ہیں :- أيُّهَا امْرَأَةٍ نَكَحَتْ بِغَيْرِ اِذْنِ وَلِيْهَا فَنِكَاحُهَا بَاطِلُ فَنِكَاحُهَا بَاطِك فَيْكا حُهَا بَاطِل اسی طرح حضرت ابو ہریرہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :- لا تُزَوّجُ المَرأَة نَفْسَهَا فَإِنَّ الزَّانِيَةَ هِيَ الَّتِي تُزَوِّجُ نَفْسُهَا له یعنی کوئی عورت بغیر ولی کے خود اپنا نکاح نہ کروائے اور جو عورت بغیر ولی کے خود کوکسی کی زوجیت میں دے دے تو وہ گویا زانیہ ہے۔حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں :- لا نكَاحَ إِلَّا بِوَلِي وَشَاهِدَى عَدْلٍ له یعنی کسی عورت کا نکاح ولی کی اجازت اور دو عادل گواہوں کے بغیر درست نہیں۔خلفائے راشدین ان کا تعامل بھی اس مسلک کی تائید کرتا ہے حضرت عمر اور حضرت علی نے اپنے عہد خلافت میں اس مسلک کو درست سمجھا اور اس پر سختی سے عمل کر دیا اور اعلان کیا کہ ولی کی اجازت کے بغیر نکاح درست نہیں ہوگا۔له نيل الأوطار كتاب النکاح باب لا نكاح الا بولى صلال الاول اولا سے ترمذی کتاب النکاح باب لا نكاح الا بولى جلد اول ص ٣ که دار قطني كتاب النكاح جلد ۲ ص