فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء)

by Other Authors

Page 42 of 135

فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 42

۴۲ ان کا مقرر کردہ نمائندہ کسی اور مناسب آدمی کو ولی نکاح مقرر کر سکتا ہے جو لڑکی کی رضامندی اور اسکے مفاد کے مطابق یہ فریضہ انجام دے گا اور اس کی یہ کارروائی درست اور معتبر ہوگی۔عام حالات میں عورت نکاح کی ولی نہیں بن سکتی۔مثلا ماں، دادی، نانی ، بہن ، پھوپھی وغیرہ ولی نکاح نہیں ہوں گی۔ایک دفعہ حضرت عائشہؓ نے اپنے خاندان کے ایک لڑکے اور لڑکی کے نکاح کی بات طے کی۔جب دیگر امور طے پاگئے تو آپ نے خاندان کے ایک شخص کو کہا کہ وہ اس نکاح کی بحیثیت ولی اجازت دے کیونکہ عورتوں کو نکاح کی ولایت کا اختیار نہیں ہے۔لے شرط نمبر ۳ دو گواہوں کا ہونا صحت نکاح کے لئے کم از کم دو گواہان کا ہونا ضروری ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بغیر گواہوں کے نکاح نہیں ہوتا۔حدیث کے الفاظ یہ ہیں :- تشریح : : عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ ۖ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِي وَشَاهِدَى عَدْلٍ له ب : - عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا بُدَّ فِى النِّكَاحِ مِنْ اَرْبَعَةِ الْوَلِي وَالزَّوْجِ وَالشَّاهِدَيْنِ - له حضرت عائشہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتی ہیں کہ لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِي وَشَاهِدَى عَدْلٍ وَمَا كَانَ مِنْ نِكَاحِ عَلَى غَيْرِ ذَلِكَ فَهُوَ بَاطِل یعنی کوئی نکاح ولی کی رضا مندی اور دو عادل گواہوں کے بغیر درست نہیں ہوتا اور جو نکاح اس کے بغیر ہو وہ باطل ہے۔گواہوں کے لئے عاقل بالغ ہونا ضروری ہے۔مرد گواہ رکھے جائیں بشرط ضرورت ایک مرد اور ه محلی ابن حزم جلد ۱ ص۴۵۳ له دار قطني كتاب النكاح ص٣٨ تے 144 اخرجه ابن حبان في صحيحه بحواله نصب الرايه صين