فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء)

by Other Authors

Page 39 of 135

فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 39

۳۹ جس عورت کو مخصوص طریق کے مطابق الگ الگ وقتوں میں وقفہ وقفہ کے بعد تین طلاقیں اسکے خاوند نے دی ہوں تو دوبارہ وہ آپس میں نکاح نہیں کر سکتے سوائے اس کے کہ وہ عورت کسی اور شخص سے شادی کرے اور پھر کسی طبعی یا قدرتی وجہ سے اس سے علیحدگی ہو جائے تو اس طرح حتی تنکح زوجا خيره " یعنی نکاح ثانی کی شرط پوری ہو جانے کی وجہ سے وہ اپنے اس خاوند سے بھی نکاح کرسکتی ہے جس نے اسے طلاق بتہ دی تھی یکے شرط نمبر ۲ : صحت نکاح کے لئے دوسری شرط یہ ہے کہ عورت اور اس کا ولی دونوں اس نکاح پر راضی ہوں۔تشریح الف : شرعی نکاح کے لئے ضروری ہے کہ نہ صرف عورت خود نکاح کے لئے راضی ہو بلکہ اس کا ولی بھی نکاح پر رضامند ہو۔نہ تو محض ولی کی رضامندی سے نکاح ہو سکتا ہے اور نہ صرف عورت کی رضا مندی سے۔اگر لڑکی نابالغ ہے تو اس کی رضامندی اس کے بالغ ہونے تک معلق رہتی ہے جب وہ خود بالغ ہو جائے تو وہ اپنے خیار بلوغ کا حق استعمال کرتے ہوئے نابالغی کا یہ نکاح قائم بھی رکھ سکتی ہے اور مسترد بھی کر سکتی ہے۔فقہ احمدیہ کی رُو سے لڑکی خواہ بالغ ہو یا نا بالغ باکرہ ہو یا شیبہ اس کا نکاح ولی کی رضا مندی کے بغیر درست نہیں کیونکہ صحت نکاح کے لئے جہاں عورت کی اپنی رضامندی ضروری ہے وہاں ولی کی رضا مندی بھی لازمی ہے۔فقہ احمدیہ کا یہ مسلک ارشادات رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے خلفائے راشدین کے تعامل پر مبنی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات اور خلفائے راشدین کے چند حوالے درج ذیل ہیں :- حضرت ابو بردہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں لا نكاح إلا بولی یعنی عورت کا نکاح ولی کی اجازت کے بغیر نہیں ہوتا۔یہ روایت مختلف سندات سے مروی ہے جو صحیح اور ثابت ہیں کہ ے تفصیل کے لئے دیکھیں دفعہ نمبر ۳۵ طلاق بتہ : سورة البقره آیت ۲۳۱ نیز اسکی تشریح کی جو میچ کے ابوداؤد کتاب النکاح باب في الولى جلد اول ما " " 44 ۱۳۵ ۲۸۴ ترمذى كتاب النكاح باب لا نكاح الا بولى من : ابن ماجه كتاب النكاح باب لا نكاح الا بولى صدا :