فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء)

by Other Authors

Page 38 of 135

فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 38

غرض قرآن کریم کی آیت مذکورہ اور حدیث شریف سے یہی ثابت ہے کہ چار کی موجودگی میں پانچواں نکاح جائز نہیں۔ھ :۔معدہ سے نکاح جائز نہیں۔معتدہ ایسی عورت کو کہتے ہیں جو عدت سے گزار رہی ہو۔عدت خواہ طلاق کی ہو یا بیوگی کی اور عرصہ عدت خواہ حیض ہو یا وضع حمل کا یا مہینوں کا کسی صورت میں عدت کے دوران نکاح جائز نہیں جیسا کہ فرمایا :- وَلَا تَعزِمُوا عُقْدَةَ النِّكَاحِ حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتُبُ أَجَلَة له یعنی جب تک عدت کا حکم اپنی میعاد کو نہ پہنچ جائے اس وقت تک تم نکاح باندھنے کا پختہ ارادہ نہ کرو۔دار مشرک یا مشترکہ سے نکاح جائز نہیں البتہ کتابیہ عورت سے نکاح جائز ہے۔مشرک یا مشرکہ سے نکاح کی حرمت نقق صریح کی بناء پر ہے جیسا کہ فرمایا :- لا تَنكِحُوا الْمُشْرِكِتِ حَتَّى يُؤْمِنَ، وَلَامَةٌ مُؤْمِنَةٌ خَيْرٌ مِّنْ مُّشْرِكَةٍ وَلَوْ اعجَبَتْكُمْ وَلَا تُنْكِحُوا الْمُشْرِكِينَ حَتَّى يُؤْمِنُوا وَلَعَبْدُ مُّؤْمِنٌ خَيْرٌ مِنْ مشْرِك وَلَوْ اعْجَبكُم له یعنی تم مشرک عورتوں سے جب تک وہ ایمان نہ لے آئیں نکاح نہ کرو اور ایک مومن لونڈی ایک مشرک عورت سے خواہ وہ تمہیں کتنی ہی پسند ہو یقینا بہتر ہے اور مشرکوں سے جبہ ایک وہ ایمان نہ لے آئیں مسلمان عورتیں مت بیا ہو اور ایک مومن غلام ایک مشرک آزاد سے خواہ وہ تمہیں کتنا ہی پسند ہو یقینا بہتر ہے۔مشرکہ سے نکاح بھی ثبوت نسب کی حد تک نکاح فاسد کے حکم میں ہے۔یہ نکاح باطل اور کالعدم ہے اور اگر یہ مشرکہ ایمان لے آئے تو پھر نیا نکاح ضروری ہوگا۔ز :- مطلقہ بستہ اپنے سابق خاوند سے نکاح نہیں کر سکتی یعنی جس نے اسے طلاق بتہ دی ہے۔عدت کی تفصیل کے لئے دیکھیں دفعہ نمبر ۴۸ له سورة البقره آیت ۲۳۶ سے سورۃ البقرہ آیت ۲۲۲