فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 37
۳۷ کے مرتکب ہو گے۔ظاہر ہے کہ اس ممانعت سے شارع کا منشاء صلہ رحمی اور ایسی قریبی رشتہ داری میں موقت و محبت کو فروغ دینا اور قطع رحمی کے حالات سے بچانا ہے۔ج : منکوحہ غیر سے نکاح جائز نہیں جب کہ اس کا پہلا نکاح قائم ہو۔یہ حرمت بھی نص صریح کی بناء پر ہے جیسا کہ فرمایا :- وَالْمُحْصَنَتُ مِنَ النِّسَاءِ یعنی پہلے سے منکوحہ عورتیں بھی تم پر حرام ہیں۔آیت مذکورہ بالا کے آغاز میں حرمت علیکم" کے الفاظ ہیں جو دَ المُحْصَنَتُ مِنَ النِّسَاءِ جودَ پر بھی حاوی ہیں۔پس کسی منکوحہ عورت سے نکاح نقص صریح کی بناء پر حرام ہے۔اگر عدم علم کی وجہ سے ایسا نکاح ہو جائے اور فریقین میں مباشرت بھی ہو جائے تو یہ وطی با شبہ کے حکم میں ہو گا اور علم ہوتے ہی تفریق لازم آئے گی۔دیگر معاملات یعنی حق مہر، نسب وغیرہ نکاح فاسد کے حکم میں ہوں گے۔لے :- چار بیویوں کی موجودگی میں پانچواں نکاح جائز نہیں۔یہ حرمت قرآن شریف کی اس آیت سے ثابت ہے :- فَانكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنى وَثُلَثَ وَرُبع فَإِنْ خِفْتُمْ الَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً له یعنی تم اپنی پسند کے مطابق دو دو تین تین چار چار عورتوں سے شادی کر سکتے ہو اور اگر تمہیں ڈر ہو کہ تم عدل سے کام نہیں لے سکوگے تو پھر ایک عورت سے ہی شادی کرو۔حرمت کا یہ حکم آیت مذکورہ سے دلیل خطاب کے تحت نکلتا ہے اور اس کی تائید حدیث شریف سے ہوتی ہے۔ترندی کی روایت ہے کہ غیلان بن سلمہ النقضی نے جب اسلام قبول کیا تو ان کے عقد میں دس بیویاں تھیں ان بیویوں نے بھی ان کے ساتھ اسلام قبول کر لیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اختیار دیا کہ وہ ان میں سے چار بیویاں رکھ کر باقی کو الگ کر دیں۔سکے لے مزید تفصیل کے لئے دیکھیں دفعہ نمبر ۴ ، نمبر ۱۷ نکاح فاسد و ثبوت نسب : ٢ سورة النساء آیت ۴ ترمذى كتاب النکاح باب في الرجل يسلم وعنده عشر نسوة ما