فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء)

by Other Authors

Page 36 of 135

فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 36

۳۶ جائز ہو جائے " وقتی محرمات “ کہلاتی ہیں اور اس کی مندرجہ ذیل صورتیں ہیں :- دو بہنوں سے ایک ہی وقت میں نکاح - دو بہنوں کو بیک وقت نکاح میں جمع کرنا افقی صریح کی رو سے حرام ہے جیسا کہ فرمایا :- و ان تجمَعُوا بَيْنَ الاختن - ل یعنی تمہارے لئے حرام ہے کہ دو بہنوں کو بیک وقت اپنی بیوی بنا کر رکھو۔دو بہنوں سے اگر ایک ہی ساتھ نکاح کیا جائے تو دونوں نکاح باطل ہوں گے ، لیکن اگر یکے بعد دیگرے نکاح کرنے سے دو بہنیں اکٹھی ہو جائیں تو پہلا نکاح صحیح ہوگا اور دوسرا باطل۔کیونکہ دوسرا نکاح نا درست ہوا ہے۔عدت کے دوران بھی معتدہ بیوی کی بہن سے نکاح جائز نہیں۔اگر لاعلمی سے ایک بہن کی موجودگی میں دوسری بہن سے نکاح ہو جائے تو وہ نکاح فاشد کے حکم میں ہے اور دوسری بہن کی تفریق لازمی ہے۔ب - ایک مرد کے نکاح میں بیک وقت ایسی دو عورتیں جمع نہیں ہو سکتیں جو آپس میں خالہ بھا نجی یا پھو بھی جنہیمی ہوں۔خالہ بھانجی اور پھوپھی تیجی کو ایک مرد کے نکاح میں جمع کرنے کی حرمت نفق حدیث پر معنی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ " کوئی شخص اپنے عقد میں کیسی عورت کو اس کی پھوپھی کے ساتھ یا کسی عورت کو اس کی خالہ کے ساتھ جمع نہ کرے " حدیث کے الفاظ یہ ہیں :- نَهى أن تُزَوَّجَ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا أَوْ عَلَى خَالَتِهَا له حضرت ابن عباس کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ حرمت کی علمت قطع رحمی ہے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :- فَاتَكُمْ إِذَا فَعَلْتُمْ ذَلِكَ فَقَدْ قَطَعْتُمْ أَرْحَامَكُمْ کے یعنی اگر تم نے پھوپھی بھتیجی یا خالہ بھانجی کو ایک ساتھ نکاح میں رکھا تو تم قطع رحمی کے گناہ سورة النساء آیت ۲۴ نکاح فاسد کے لئے دیکھیں دفعہ نمبر ۱۷۱۴ ترمذی کتاب النكاح باب لا تنكح المراة على عمتها او على خالتها۔کے طبراني من حديث ابن عباس" بحواله نصب الراية صال