فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء)

by Other Authors

Page 34 of 135

فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 34

سوم سر یعنی پہلے دن بار دودھ پینے سے حرمت قائم ہونے کا حکم تھا پھر یہ حکم منسوخ ہو گیا اور پانچ بار دودھ پینے سے حرمت ثابت ہونے کا قانون مقرر ہوا۔اکثر ائمہ کا اس بات پر بھی اتفاق ہے کہ رضاعت کی عمر یعنی دو سال کی عمر کے اندر اندر دُودھ پینے سے حرمت ثابت ہوتی ہے۔امام مالک، امام ابوحنیفہ اور امام شافعی کا یہی مسلک ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ رضاعت مجاعت سے ہوتی ہے اور مجاعت اس بھوک کو کہتے ہیں جو دم بنات کی عمر کے اندر بچہ دودھ کے لئے محسوس کرتا ہے۔روایت کے الفاظ یہ ہیں :۔اِنَّمَا الرَّضَاعَةُ مِنَ الْمَجَاعَةِ له یعنی رضاعت اس عمر میں دودھ پینے کا نام ہے جبکہ بچہ کی بھوک دُور کرنے کا زیادہ تر انصا دُودھ کی خوراک پر ہو۔ایک اور روایت کے الفاظ یہ ہیں :- لَا يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ إِلَّا مَا فَتَقَ الْأَمْعَاءَ فِي الشَّدي وَكَانَ قَبْلَ الْفِطَامِ له یعنی دودھ پینے سے حرمت اس وقت قائم ہوتی ہے جبکہ دودھ سے بچہ پیٹ بھرے۔یعنی دودھ اس کی خوراک ہو اور دودھ چھڑانے کی عمر سے پہلے اس نے کسی دوسری عورت اور کا دودھ پیا ہو۔اس بارہ میں صاحب بدایۃ المجتہد علامہ ابن رشد لکھتے ہیں :۔اتَّفَقُوا عَلَى اَنَّ الرَّضَاعَ يَحْرُمُ فِى الْحَوْلَينِ وَاخْتُلِفَ فِي رِضَاعِ الْكَبِيرِ فَقَالَ مَالِكُ وَ أَبُو حَنِيفَةَ وَالشَّافِعِي وَكَانَةُ الْفُقَهَاءِ لَا يَحْرُمُ رِضَاعُ الكَبير یعنی علماء کا اِس بات پر اتفاق ہے کہ بچہ اگر دو سال کی عمر میں دودھ پیئے تو رضاعت ثابت ہوگی اور بڑی عمر کا بچہ اگر دودھ پئے تو رضاعت ثابت نہیں ہوگی۔امام مالک : 22 امام ابو ظیفہ، امام شافعی اور اکثر فقہاء کا یہی مسلک ہے۔پس فقہاء کی ان تصریحات اور مبینہ روایات کی بناء پر فقہ احمدیہ کا مسلک یہ ہے کہ اگر کوئی بچہ رضاعت ۲۸۱ له ابوداؤد باب في رضاعة الكبير ص له ترمذى كتاب الرضاع باب ان الرضاعة لا تحرم الا في الصغر ص سے بداية المجتهد كتاب النكاح الفصل الثالث في مانع الرضاع منا