فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 33
سمسم ابدی محترمات ( بر بنائے رضاعت) :۔وہ رشتے جو بر بنائے نسب حرام ہیں اگر وہی رشتے بر بنائے رضاعت قائم ہوں تو ان سے بھی نکاح ابدی حرام ہے۔مثلاً رضاعی ماں، رضاعی بہن ، رضاعی نواسی ، رضاعی ہوتی ، رضاعی بیٹی، رضاعی خالہ رضاعی پھوپھی وغیرہ۔البتہ حرمت بر بنائے رضاعت صرف دودھ پینے والے تک محدود رہتی ہے اسکے بہن بھائی اس سے متاثر نہیں ہوتے۔رضاعی رشتوں میں رضاعی ماں اور رضاعی بہنوں کی حرمت نص صریح کی بناء پر ہے جیسا کہ فرمایا :- وامهتكم التي اَرْضَعْنَكُمْ وَآخَوتُكُمْ مِنَ الرَّضَاعَةِ یعنی تمہاری وہ مائیں بھی تم پر حرام ہیں جنہوں نے تم کو دودھ پلایا ہے اور تمہاری رضاعی بہنیں بھی۔باقی رضاعی رشتوں کی حرمت نقض حدیث پر مبنی ہے جن کا ذکر شق "ب" میں آئے گا۔حرمت رضاعت محض ایک دو مرتبہ دودھ چوس لینے سے واقع نہیں ہوتی۔حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :- لا تُحَرِّمُ المَصَّةُ وَلَا الْمَصَّتَانِ أَوِ التَّضْعَةُ وَالرَّضْعَتَانِ له یعنی ایک دو گھونٹ یا ایک دو مرتبہ دودھ پینے سے حرمت ثابت نہیں ہوتی۔" رطعة" در اصل ایک مرتبہ سیر ہو کہ دودھ پینے کو کہتے ہیں اور بچہ اوسطاً دن میں پانچ مرتبہ دُودھ پیتا ہے اور ایک حدیث سے ثابت ہے کہ پانچ بار دودھ پینے سے حرمت رضاعت قائم ہوتی ہے پس اگر کوئی بچہ کم از کم پانچ مرتبہ سیر ہو کر دودھ پیئے خواہ مختلف اوقات میں تو اس سے حرمت ثابت ہو جائے گی اس سے کم پر نہیں۔روایت کے الفاظ یہ ہیں :- قَالَتْ عَائِشَةُ أَنْزِلَ فِي الْقُرْآنِ عَشَرُ رَضْعَاتٍ مَعْلُومَاتٍ فَنَسَعَ مِنْ ذَلِكَ خَمْسَاوَ صَارَ إلى خَمْسِ رَضْعَاتٍ مَعْلُومَاتٍ - کے ل سورة النساء آیت ۲۴ ه ابن ماجه باب لا تحترم المصة والمقتان ص و ابوداؤد صدا و ترمذی ص له - ترمذی ابواب الرضاع باب لا تحرم المصة الخ۔