فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 32
کی بیویوں سے جن کو طلاق مل گئی ہے نکاح کرنے کے متعلق کوئی خلش نہ رہے اور خدا کا فیصلہ ہر حال پورا ہو کر رہنا تھا۔د : - کسی مرد کا اپنی بیوی کی بیٹی یعنی ربیہ سے نکاح ابدی حرام ہے۔رہلیہ سے مراد مدخولہ بیوی کے پہلے خاوند کی ایسی لڑکی ہے جس نے اس کے گھر میں اور اس کی سرپرستی میں پرورش پائی ہو۔ربیبہ کی حرمت بھی نص صریح سے ثابت ہے جیسا کہ فرمایا :- " وَرَبابكُمُ الَّتِي فِي حُجُورِكُمْ مِنْ نِسَائِكُمُ الَّتِي دَخَلْتُم بِهِنَّ له یعنی تمہاری وہ سوتیلی لڑکیاں جو تمہاری ان بیویوں سے ہوں جن سے تم خلوت کر چکے ہو اور تمہارے گھروں میں پلی ہوں تم پر حرام کی گئی ہیں۔اس بارہ میں کوئی اختلاف نہیں کہ رنبیہ کی حرمت کے لئے بیوی یعنی ربیہ کی ماں سے مباشرت او مجامعت ضروری ہے۔اگر بیوی سے مباشرت نہ ہوئی ہو اور علیحدگی ہو گئی تو ایسی بیوی کے پہلے خاوند کی لڑکی سے نکاح حرام نہیں ہے البتہ فقہاء نے اس بارے میں اختلاف کیا ہے کہ آیا بیوی کے پہلے خاوند کی بیٹی کا دوسرے خاوند کے گھر میں پرورش پانا بھی اس حرمت کے لئے شرط ہے یا نہیں کیونکہ آیت مذکورہ بالا میں رہائی کے متعلق " في حُجُورِكُم" کا لفظ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ مدخولہ عورتوں کی وہ بیٹیاں مراد ہیں جو دوسرے خاوندوں کے گھروں میں پرورش پا رہی ہوں۔جمهور فقہاء کا مسلک یہ ہے کہ اہلیہ سے نکاح ہر حال میں حرام ہو گا خواہ اس نے اپنے سوتیلے باپ کے گھر پرورش پائی ہو یا نہ پائی ہو۔احمد یہ مسلک جمہور فقہاء کے مطابق ہے یعنی ربیبہ کا دوسرے خاوند کے گھر میں پرورش پانا اس کی حرمت کے لئے شرط نہیں ہے۔اس مسلک کی تائید اس بات سے ہوتی ہے کہ اگر رہائب کا خاوندوں کے گھر میں پلنا شرط ہوتا تو آیت میں جہاں یہ کہا گیا ہے کہ خان لَّمْ تَكُونُوا دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ وہاں یہ الفاظ بھی ہوتے وَ إِن لَمْ تَكُن فِي حُجُورِكُمْ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُم پس معلوم ہوا کہ اس آیت میں حرمت کے لئے صرت " دخَلْتُمْ بِهِنَّ" بطور شرط ہے " في حُجُورِكُم ، بطور شرط نہیں ہے بلکہ بطور واقعہ اس کا ذکر ہے کہ عموماً ایسا ہوتا ہے۔سورة النساء آیت ۲۴