فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 62 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 62

۶۲ عمر و صليت با صحابك وانت جنب فقلت ذكرت قول الله تعالى ولا تقتلوا انفسكم ان الله كان بكم رحيما - نتيممت ثم صليت نضحك رسول الله صلى الله عليه وسلم ولم يقل شيئاً - رستن ابو داؤد باب الجنب، يتيم لحوق البرد) ترحمه :- حضرت عمرو بن العاص بیان کرتے ہیں کہ انہیں غزوہ ذات السلاسل میں امیر لشکر بنا کر بھیجا گیا وہ کہتے ہیں کہ ایک رات انہیں احتلام ہو گیا سردی بڑی سخت تھی اور نہانے سے شدید بیمار ہونے یا جان جانے کا خطرہ تھا تو میں نے تمیم کر کے صبح کی نماز پڑھائی جب ہم واپس مدینہ آئے تو بعض سپاہیوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اس واقعہ کا ذکر کیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا اسے عمرہ تو نے حالت جنابت میں نماز پڑھائی تو میں نے عرض کیا کہ میں نے تیم کیا تھا۔نہانے کی بجائے تمیم کا جواز الہ تعالی کے اس قول سے مستنبط کیا تھا کہ تم اپنے آپ کو تل کرو اللہ تعالی تم پر رحم کرنے والا اور مہربان ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ جواب سن کر منہس پڑے آپ نے کسی قسم کی ناراضگی کا اظہار ند فرمایا۔اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے علامہ شوکانی لکھتے ہیں :- تد استدل بهذا الحديث الشورى ومالك والبوذيفه و ابن المنذر على ان من تيمم لشدة البرد وصلى لا يجب عليه الاعادة لان النبي صلى الله عليه وسلم لم يامره بالاعادة ولو كانت واجبة لامرها بها ولانه أتى بما امر به وقدر عليه ناشيه سائر من يصلى بالتيمم ۲۵۸ رنيل الأوطار ٣ ) یعنی اس حدیث سے حضرت امام ثوری امام مالک امام ابو حنیفہ اور امام منذر وغیرہ نے یہ استدلال کیا ہے کہ جو شخص سخت سردی کی وجہ سے نہانے کی بجائے تیمیم کر کے نماز پڑھ لیتا ہے اس کے لیے دوبارہ نماز پڑھنا ضروری نہیں