فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 63
کیونکہ آنحضت صلی الہ علیہ سلم نے حضرت عمر بن العاص کو دوبارہ نماز پڑھنے کا کم نہیں دیا تھا اگر دوبارہ نماز پڑھنا ضروری ہوتا تو آپ انہیں ضرور حکم دیتے بس حضرت عمر نے جو کہا وہ شریعیت کے مطابق تھا اس لیے جس طرح دوسرے عذر کی وجہ سے تمیم کرنے والا نماز پڑھ سکتا ہے اس طرح حضرت عمرو نے بھی تمیم کر کے نماز پڑھی؟ سوال :۔کیا نسل جنابت کے لیے عورت اپنے گوندھے ہوئے بال کھولکر دھوئے یا سر پر مسح کرے۔جواب:۔سر کے گوندھے ہوئے بال کھولنے اور دھونے ضروری نہیں صرف مسح کے رنگ میں تین چلو پانی ڈالنا اور سر پر ہاتھ پھیرنا کافی ہے۔حدیث میں آتا ہے۔عن ام سلمة قالت يا رسول الله انى امراءة اشدُّ ضُفر رأسى افالقضة لغسل الجنابة قال لا انما يكفيك ان تحتى على رأسك ثلاث حثيات من ماء ثم تفيضى على سائر جدك ر ترمذی باب غسل الجنابة 14 ) الماء فتطهرين۔ترجمہ : حضرت ام سلمہ کہتی ہیں کہ میںنے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرض کیا کہ میں مینڈھیاں مضبوطی سے باندھتی ہوں کیا غسل جنابت کے لیے ان کو کھولنا ضروری ہے۔حضور نے فرمایا اس کی ضرورت نہیں۔تین چلو پانی (مسیح کے رنگ میں اوپر ڈالنا کافی ہے اس کے بعد سارے جسم پر پانی ڈال لو تو تم پاک ہو جاؤ گی۔سوال پر اگر عورت چالیس روز سے پہلے نفاس سے پاک ہو جائے تو کیا وہ صوم وصلواۃ کی پابند قرار دی جاکتی دہ ہے یا ہر صورت مدت مقررہ یعنی چالیس روز پورے کرنے ضروری ہیں ؟ جواب :۔چالیس روز سے پہلے اگر عورت نفاس سے پاک ہو جائے تو نہا کر عبادت بجالا سکتی ہے، چاہیں دن پورے کرنا ضروری نہیں۔الفضل ۱۹ راگست ۱۹۱۶ ) نماز ہر حال میں ضروری ہے خواہ بدن پر گند ہی کیوے نہ لگا ہو سوال : ایک مخدوم غیر احمد نے دریافت کیاکہ میرا بدن پیل رہا ہے بار باریک نہیں کرسکا تو کیا ہے وی پڑھ لوں ؟ جواب : - صرف تمیم کریں اگر ظاہری نجاست ہو تو بشرط امکان اسکا ازالہ کریں اور لیس - (الفضل ۲۹ را پریل فواد ) کوئی ناپاک نہیں ہوتا۔خدا تعالیٰ کا حکم ہے کہ بار مجبوری ناپاک حالت میں بھی نماز پڑھے۔نماز پھر بھی جائز ہے خواہ آپ سید سے بھرے ہوئے ہوں تب بھی نماز پڑھنے کیونکہ آپ اپنی خوشی سے تو ایسا نہیں کرتے ہاں جتنی طهارت ممکن ہو کریں۔باقی مجبوری امر ہے نماز پڑھیں نمازہ نہ چھوڑیں۔(فائل مسائل دینی ۸-۳۲)