فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 51
۵۱ نہانے کے فرائض و آداب نہانے کے تین فرض ہیں۔(۱) کلی کرنا (۲) پانی سے ناک صاف کرنا (۳) اس کے بعد سارے بدن پر پانی ڈالنا یا تک کہ جسم کا کوئی حصہ خشک نہ رہے۔عورت کے سر کے بال اگر گھنے اور گند ہے ہوئے ہوں تو ان کا کھونا اور سارے بالوں کو تر کرنا ضروری نہیں بلکہ سر پر تین بار پانی ڈال کر مسح کے رنگ میں سر پر ہا تھ پھیر لینا کافی ہے۔نہانے کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ نہانے والا موسم کے مطابق گرم یا سرد صاف ستھرا پانی استعمال کرے۔پہلے استنجاء کرے پھر وضو کرے یعنی بسم اللہ پڑھکر ہاتھ دھوئے اس کے بعد کتی کرے اور ناک میں پانی ڈالے منہ اور کہنیوں تک ہاتھ دھوئے سر کا مسح کرے۔پھر بدن پر تین بار پانی ڈالے۔پہلے دائیں طرف اور پھر بائیں طرف۔نہاتے وقت جسم کو اچھی طرح مکنا بھی چاہیے۔اس طرح کوئی اچھا سا صابن یا میل دور کرنے والی کوئی مفید چیز استعمال کرنا بھی آداب غسل میں شامل ہے۔جس حالت میں نہانا ضروری ہے اس حالت میں نہائے بغیر نہ انسان نماز پڑھ سکتا ہے نہ قرآن کریم کی باقاعدہ تلاوت کر سکتا ہے اور نہ ہی مسجد میں جا سکتا ہے۔بیت الخلاء اور استنجاء قضائے حاجت کے لیے بیٹھنے یا اُٹھنے کے وقت پردہ کا لحاظ رکھنا ضروری ہے یا تو بنے ہوئے صاف ستھرے بیت الخلاء میں جائے یا پھر دور جنگل میں کسی اوٹ والی جگہ میں جانا چاہیئے آبادی کے پاس جہاں لوگوں کی آمد ورفت عام ہو چلتے راستہ پر سایہ دار جگہ یا درخت کے نیچے جہاں کام کاج یا آرام کے لیے لوگوں کے آ بیٹھنے کا احتمال ہو قضاء حاجت نہ کرے اس طرح بیت الخلاء میں نگے پاؤں نہ جائے بلکہ جوتی یا چپل پہن کر جائے۔استنجاء اور صفائی کے لیے پانی کا انتظام ہونا چاہیے اور اگر پانی نہ مل سکے تو پھر مٹی کے ڈھیلے یا اس قسم کی صفائی کے لیے بنا ہوا کا نفذ ساتھ لے جائے اور کم از کم تین بار استعمال کرے۔استنجاء یعنی صفائی بائیں ہاتھ سے کرے دایاں ہاتھ استعمال نہ کرے۔بیت الخلاء میں قدم رکھنے سے پہلے اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْخَبثِ وَالْخَبَائِثِ یعنی اسے میرے خدا بڑے اثرات اور خبیث قسم کی بیماریوں سے میں تیری پناہ چاہتا ہوں کے