فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 50 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 50

مباشرت یعنی زن وشو ہر کا مخصوص جنسی تعلق قائم کرنا۔احتلام یاکسی اور وجہ سے شہوانی ہیجان کے ساتھ مادہ منویہ کا نکلنا۔عورت کے ایام ماہواری یعنی نخون حیض کا ختم ہونا حیض سے مراد ایام ماہواری ہیں۔یعنی بالغہ عورت کی وہ طبعی حالت جس کی وجہ سے کم و بیش ہر ماہ تین سے لے کر دس دن تک خون آتا ہے یہ خون ختم ہونے پر بنانا ضروری ہوتا ہے جن دنوں میں یہ خون نہیں آتا وہ طہر کے دن کہلاتے ہیں۔ولادت کے بعد خون نفاس کا ختم ہونا نفاس سے مراد وہ خون ہے جو بچہ کی پیدائش کے بعد جاری ہوتا ہے اور زیادہ سے زیادہ چائنیں دن تک رہتا ہے کم سے کم کے لیے کوئی اندازہ نہیں بعض اوقات دومین دن میں ہی ختم ہو جاتا ہے اس خون کے ختم ہونے کے بعد بھی تھا نا ضروری ہوتا ہے۔ان صورتوں میں نہائے بغیر نماز پڑھنا جائز نہ ہوگا اور اگر سخت سردی یا بیماری وغیرہ کی وجہ سے نہانے سے صحت کو نقصان پہنچنے یا زیادہ بیمارہ ہو جانے کا ڈر ہو تو تھانے کی بجائے تمیم کی بھی اجازت ہے۔نماز کی حالت باطنی پاکیزگی - روحانی نشاط - ظاہری طہارت اور جسمانی مستعدی کی مقننی ہے لیکن نا پاکی کی حالتیں جسم میں گرانی ، نقاہت، کمزوری اور روحانی کسلمندی کا موجب بنتی ہیں اور بہانے سے یہ کیفیت دور ہو جائے گی جسم میں تازگی دسبک ساری آجائے گی اور پوری بشاشت کے ساتھ انسان نماز کے لیے کھڑا ہوگا۔اور اس طرح جذبات لطیفہ ، ارواح طیبہ اور واردات روحانیہ کا وہ مور دین سکے گا جو نمانہ کا مقصد اصلی ہے۔غیرمسلم قبول اسلام کے بعد جب نماز پڑھنے لگے تو پہلے نہائے وضو کرے اور پھر اس کے بعد نماز شروع کرے تاکہ قبول اسلام کے بعد جب پہلی بار وہ خدا کے حضور جائے تو باطنی طہارت کے ساتھ ظاہری طور پر بھی پاک وصاف ہو۔اس کے علاوہ حیض و نفاس کے دنوں میں نماز پڑھنا۔قرآن کریم کی تلاوت کرنا اور روزہ رکھنا جائز نہیں۔نماز معاف ہے اس وجہ سے رمضان کے جو روز سے رہ گئے ہوں بعد میں ان کی قضاء ضروری ہے۔پیدا ہونے والے بچہ کو بھی نہلا نا ضروری ہے۔تجہیز و تکفین سے پہلے میت کو غسل دینا بھی ضروری ہے تاکہ پاک وصاف حالت میں اس کی نمازہ جنازہ پڑھی جاسکے اور پھر اس کی تدفین عمل میں لائی جاسکے۔علاوہ ازیں جمعہ اور عید کے دن، حج کا احرام باندھنے اور میدانِ عرفات میں وقوت کے وقت نہانا مسنون ہے اس طرح بیماری سے شفایاب ہونے کے بعد غسل صحت بھی باعث برکت ہے۔جو شخص میت کو نہلائے اُسے بعد میں خود بھی نہا لینا چاہیے۔موسم کو مد نظر رکھتے ہوئے روزانہ یاکبھی کبھار نہاتے رہنا صحت وصفائی کے اعتبار سے بہت مفید رہتا ہے۔۔