فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 52 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 52

۵۲ الفاظ میں دعا کرے۔پہلے بایاں پاؤں اندر رکھے حتی الوسع قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ کرکے نہ بیٹھے قضائے حاجت کے وقت باتیں نہ کرے فارغ ہونے کے بعد نکلتے وقت پہلے دایاں قدم باہرکھے اور ساتھ غفرانك الحمد لله الذي اذهب عنى الاذی کے یعنی میرے خدا تیری مغفرت چاہتا ہوں تیری حمد اور تعریف کرتا ہوں کہ تو نے مجھے تکلیف دہ گند سے نجات دی اور مانیت بخشی۔فارغ ہونے کے بعد صابن یا مٹی سے مل کر پانی سے ہاتھ دھونے چاہئیں۔موجبات وضو جن وجوہات سے وضو کرنا ضروری ہو جاتا ہے انہیں موجبات وضو یا اسباب وضو کہتے ہیں۔اور وہ یہ ہیں : قضائے حاجت یعنی پیشاب، پاخانہ کرنے یا پیشاب کے راستہ کسی اور رطوبت کے نکلنے۔ہوا خارج ہونے ، ٹیک لگا کر یا لیٹ کر سونے اور بے ہوش ہو جانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ایسی صورت حال پیش آنے کے بعد جب نماز پڑھنی ہو تو پہلے وضو کیا جائے اور پھر نماز پڑھی جائے۔کیونکہ وضو کے بغیر نماز صحیح نہیں ہوتی اگر کسی کو ریح خارج ہوتے رہنے پیشاب قطرہ قطرہ گرتے رہنے یا استحاضہ یعنی حیض و نفاس کے مقررہ دنوں کے علاوہ بھی نخون جاری رہنے کی بیماری ہو اور اس وجہ سے اس کا وضو نہ ٹھہرتا ہو تو وہ معذور ہے اس کے لیے ہر نماز کے وقت ایک بار وضو کر لینا کافی ہے اس وقت میں اس وضو سے جو نماز چاہیے وہ پڑھ سکتا ہے کیونکہ اس بیماری سے اُس کا وضو نہیں ٹوٹے گا۔وضو کرنے کا طریق جب کوئی شخص وضو کرنے لگے تو بسم اللہ پڑھے، پاک صاف پانی لے کر ٹہنیوں تک ہاتھ دھوئے پھر تین بار کلی کرے منہ کو اچھی طرح صاف کرنے کے لیے مسواک یا برش استعمال کرنا چاہیے اور اگر یہ میسر نہ ہو تو انگلی سے دانت صاف کرے ، پانی چلو میں لے کر ناک میں ڈالے اور اسے اچھی طرح صاف کرے۔پھر تین بار سارا چہرہ دھوئے، داڑھی گھنی ہو تو ہاتھ کی انگلیوں سے بالوں میں تعلال کرنا اچھا ہے اس کے بعد کہنیوں سمیت تین بار ہا تھ دھوئے۔پھر پورے سر کا اور کانوں کا مسح کرے یعنی پانی سے ہاتھ تر کر کے سارے سر پر پھیرے پھر انگشت شہادت کانوں کے اندیہ کی طرف اور انگوٹھے کانوں کے باہر کی طرف پھیرے۔پھر تین بار ٹخنوں سمیت پاؤں دھوئے