فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 39 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 39

۳۹ گھنٹے ذکرہ بھی بعض روایات میں آتا ہے۔وتر نماز کی تین رکعتیں ہوتی ہیں۔اس نماز کا وقت عشاء کی فرض نماز پڑھنے کے بعد سے شروع ہوتا ہے اور طلوع فجر تک رہتا ہے جس شخص کو رات کے پچھلے حصہ میں اُٹھ گنے کا اطمینان نہ ہو اس کے لئے بہتر یہی ہے کہ وہ عشاء کی نماز کے ساتھ ہی وتر پڑھ لے تاہم عشاء کی نماز کے بعد سو جانا اور پھر رات کے پچھلے حصہ میں اُٹھ کر تہجد کی آٹھ رکعت نماز پڑھنا بہت سی برکات کا موجب ہے اس نماز کو تہجد کی نمازہ کہتے ہیں۔تہجد کے بعد اور فجر کے طلوع ہونے سے پہلے و تریر هنا عشاء کی نماز کے ساتھ وتر پڑھنے سے زیادہ افضل ہے اس کی زیادہ ثواب ملتا ہے۔تبھول جانے یا سوئے رہنے کی وجہ سے اگر وقت پر نماز نہ پڑھی جاسکے تو جس وقت انسان کو یاد آئے یادہ بیدار ہو اسی وقت تیاری کر کے وہ نماز پڑھ لے کیونکہ اس کی اس فوت شدہ نماز کے لئے اللہ تعالٰی کے ہاں یہی وقت مقدر تھا۔غیر معمولی علاقے جہاں دن رات چوبیس گھنٹے سے زیادہ کے ہیں یا دن رات اگرچہ چو ملیں گے کے ہیں لیکن ان میں باہمی فرق اتنا زیادہ ہے کہ شر آن وسنت کی رو سے نمازوں کے پانچ معروف اوقات کی تفریق بہت مشکل ہے مثلاً قطب شمالی کے ایسے علاقے جہاں شفیق تاہم اور شفق صبح کے درمیان امتیانہ نہیں ہوسکتا یعنی درمیان میں فسق حائل نہیں ہوتا وہاں نمازوں کے اوقات گھڑی کے حساب سے اندازہ سے مقرر کئے جائیں گے اور اوقات کے تعین کے لئے سورج کے طلوع و غروب کے اعتبار سے معروف علامات کی پابندی ضروری نہ ہوگی۔نیز ایسے علاقوں میں نمازوں کے اوقات چوبیس گھنٹوں کے اندر اس طرح پھیلا کہ مقرر کئے جائیں گے کہ ان کا درمیانی وقفہ معتدل علاقوں کے اوقات نماز کے درمیانی وقفہ سے حتی الوسع ملتا جلتا ہو۔مجموعی آبادی کی معاشرتی عادت کے لحاظ سے ان علاقوں میں کام کاج کا وقت خواہ سورج موجود نہ ہو دن اور آرام اور سونے کا وقت خواہ سورج آسمان پر چمک رہا ہورات شمار ہوگا۔ے: دیکھئے فوت شدہ نمائندوں کی قضاء کتاب ہذا : ہے شفق سے مراد وہ شرفی اور سفیدی ہے جو سورج غروب اور طلوع ہونے کے وقت افق پر نمودار ہوتی ہے۔حق سے مراد وہ اندھیرا ہے جو سورج غروب ہو جانے اور شرفی اور سفیدی غائب ہو جانے کے بعد نضا پر چھا جاتا ہے :