فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 38 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 38

PA گھنٹے کے قریب بنتا ہے۔اس وقت ہیں چار رکعت نمانہ فرض ہے اگر کوئی چاہیے تو فرضوں سے پہلے چار رکعت سنتیں بھی پڑھ سکتا ہے۔لیکن عصر کے فرض پڑھنے کے بعد کوئی سنت یا نفل نمازہ جائز نہیں۔اگر جلدی ہو اور کوئی ضروری کام در پیش ہو تو دوسری مثل کے شروع ہوتے ہی عصر کی نماز پڑھی جاسکتی ہے لیکن افضل اور بہتر یہ ہے کہ دوسری مثل کے ختم ہونے اور تیسری مشکل کے شروع ہونے پر عصر کی نماز پڑھی جائے۔اسی طرح دھوپ کا رنگ پھیکا پڑنے سے پہلے ہی نماز پڑھ لینی چاہئے کیونکہ بل کسی مجبوری کے زیادہ دیر کرنا اور ایسے وقت میں نماز پڑھنا کہ دھوپ کا زنگ زرد پڑ جائے اور سورج غروب ہونے کے قریب ہو جائے نا پسندید اور کروں گا۔جیسا کہ بیان ہو چکا ہے کہ کسی مصروفیت کی وجہ سے اگر دیر ہوجائے تو ظہر کی نماز دوسری ہیں پڑھ سکتے ہیں اور اگر جلدی ہو تو عصر کی نماز بھی اس مثل میں ہو سکتی ہے اس لحاظ سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ دوسری مثل کا وقت در اصل ظہر کی نمازہ کا بھی ہے اور عصر کی نماز کا بھی مینی یہ وقت دونوں میں مشترک ہے۔یہی وجہ ہے کہ سفر بیماری یاکسی اجتماعی دینی کام میں عد وفقیت کی وجہ سے ظہر اور عصر کی نمازیں جمع بھی ہو سکتی ہیں۔کیونکہ ان دونوں نمازوں کا وقت کچھ تھوڑے سے سے فرق کے ساتھا اپنے اندر تسلسل رکھتا ہے۔لے م۔مغر ہے۔سورج ڈوبنے سے لے کر مغربی افق میں نظر آنیوالی شفق یعنی شرفی کے غائب ہونے تک کا وقت مغرب کہلاتا ہے۔گھڑی کے حساب سے معتدل علاقوں میں یہ وقت ڈیڑھ گھنٹہ سے کچھ کم نبتا ہے۔اس وقت میں تین رکعت فرض نمانہ پڑھی جاتی ہے اس کے بعد دو رکعت نماز سنت اور پھر حسب موقع و مرضی دو رکعت نماز نفل بھی پڑھ سکتے ہیں۔شرفی کے بعد مغربی افق پر جو سفیدی نمودار ہوتی ہے اُسے بھی شفق کہتے ہیں اس سفیدی کے غائب ہونے کا جو وقت ہے وہ مغرب اور عشاء کے درمیان مشترک ہے یعنی اگر کسی مجبوری کی وجہ سے دیر ہو گئی ہو تو اس وقت میں مغرب کی نمازہ بھی ہو سکتی ہے اور اگر ضروری کام کی وجہ سے جلدی ہو تو اسی وقت میں عشاء کی نما نہ بھی پڑھ سکتے ہیں ایسے ہی جائز مجبوری کے پیش نظر مغرب اور عشاء کی نما نہ میں جمع بھی ہو سکتی ہیں۔۔ه - عشاء۔عشاء کا وقت شفق یعنی سفیدی غائب ہونے کے بعد سے شروع ہوتا ہے اور فجر کے طلوع سے کچھ پہلے تک رہتا ہے لیکن بہتر اور افضل وقت نصف شب تک ہے۔عشاء کے وقت میں چار رکعت نماز فرض اور پھر دو رکعت سنت ہے۔دو رکعت نفل نمانہ کا اه :- دیکھیں باب جمع نماز کتاب ہذا :