فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 40
نماند او کی وقت میں پڑھنا افضل ہے تاہم امام الزمان اور خلیفہ وقت کی مصروفیت کے پیش نظر یا لوگوں کی سہولت کی غرض سے سویر سے یا دیر سے نماز پڑھنے کا جو وقت مقرر کیا جائے وہ افضل ترین ہے کیونکہ اہم جماعتی ذمہ داریوں کے لحاظ سے خلیفہ وقت بہتر جانتا ہے کہ کس کام کو مقدم اور کسی کو ڈخر رکھنا موجب خیر و برکت ہے۔اسی طرح نماز یا جماعت کے لئے وقت مقرر کرنے میں اس بات کو مد نظر رکھنا بھی منشاء شریعیت کے عین مطابق ہے کہ لوگ نماز کے لئے بسہولت اور زیادہ تعداد میں کس وقت جمع ہو سکتے ہیں تا کہ زیادہ سے زیادہ لوگ جماعت میں شامل ہو کر زیادہ سے زیادہ ثواب حاصل کریں۔اوقات نماز کی حکمت : - نماز کی اصل غرض یہ ہے کہ تھوڑے تھوڑے وقفہ کے بعد خدائے حتی وقیوم کا نام لیا جائے کیونکہ جس طرح گرمی کے موسم میں تھوڑے تھوڑے سے وقفہ کے بعد انسان ایک ایک دو دو گھونٹ پانی پیتا رہتا ہے نا کر گلا تر ہے اور اس کے جسم کو طارت پہنچتی ہے اس طرح کفراور بے ایمانی کی گرم بازاری میں اسانی رح کو دو اور تازگی پہنچانے کیلے الہ تعالی نے تھوڑے تھوڑے وقفہ کے بعد نماز مقرر کی ہے تا کہ گناہ کی گرمی اس کی روح کو جھلس نہ دے اور مسموم ماحول اس کی روحانی طاقتوں کو مضمحل نہ کرد سے خوشی ہو یا غمی ہر حالت میں انسان کو نماز کے ذریعہ خدا تعالیٰ کی طرف متوجہ ہونے کا موقع ملتا ہے جب دنیا کا نظر فریب حسن اسے اپنی طرف کھینچتا ہے تو نماز کی مدد سے وہ خُدا کی طرف جھکتا ہے۔نماز کے لئے وقت مقررہ کرنے سے اجتماعیت کی روح کو زندہ رکھنے کا موقع ملتا ہے اس طرح لوگ بآسانی جمع ہو سکتے ہیں۔نیز وقت کی تعیین کو خود انسان کی اپنی مرضی پر نہ چھوڑنے میں یہ حکمت ہے کہ تا انسان کو پر وقت نماز ادا کرنے کی فکر رہے اور اس کا ذمہ داری کا احساس بیدار رہے اگر وقت کی تعیین خود انسان پر چھوڑ دی جاتی تو وقت کی پابندی کی اہمیت جاتی رہتی اور اس میں سستی ظاہر ہونے لگتی۔چونکہ قلبی کیفیات بدلتی رہتی ہیں اس لئے ایک ہی وقت میں دیر تک عبادت میں مشغول رکھنے کی بجائے مختلف اوقات میں عبادت کا حکم دیا گیا ہے کیونکہ لمبے وقت میں دیر تک توجہ قائم رکھنا مشکل ہو جاتا ہے اس سے طبیعت اکتا جاتی ہے لیکن اس کے برعکس اگر وقت مختصر ہو اور وقفہ وقفہ کے بعد کئی بار عبادت بجالانے کا موقع ملے تو بشاشت قائم رہتی ہے عبادت سہل ہو جاتی ہے اور عبودیت کے اظہار کا بھی بار بار موقع ملتا ہے اس کی یاد دل میں تازہ رہتی ہے اس کا سارا وقت عبادت الہی میں ہی طرف ہوتا